اسلام آباد میں نجکاری کمیشن کے بورڈ نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، گیپکو، کے حصول میں دلچسپی رکھنے والے نو امیدواروں کو پری کوالیفائی کرنے کی منظوری دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ گیپکو کی نجکاری کے جاری عمل میں ایک اہم طریقہ کار کا مرحلہ ہے، جس کے بعد اہل قرار دیے گئے فریق اگلی سطح کی جانچ اور بولی کے عمل میں آگے بڑھ سکیں گے۔
پری کوالیفکیشن کا مطلب کمپنی کی فروخت یا کسی امیدوار کے حق میں حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر نجکاری کمیشن مالی صلاحیت، تکنیکی اہلیت اور طے شدہ معیار کے مطابق دلچسپی رکھنے والے فریقوں کی جانچ کرتا ہے تاکہ صرف مطلوبہ شرائط پوری کرنے والے امیدوار آگے بڑھیں۔ حتمی لین دین کے لیے مزید دستاویزی، مالی اور ضابطہ جاتی مراحل کے ساتھ مسابقتی بولی درکار ہوگی۔
گیپکو پنجاب کے ایک بڑے صنعتی اور تجارتی خطے میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار کمپنی ہے، اس لیے اس کی نجکاری توانائی شعبے میں حکومت کی وسیع اصلاحاتی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں میں مالی نقصانات، وصولیوں، لائن لاسز اور انتظامی کارکردگی کے مسائل کئی برس سے پالیسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ حکومت نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے کارکردگی اور سرمایہ کاری بہتر بنانے کا ہدف رکھتی ہے، جبکہ صارفین کے لیے نرخ، سروس معیار اور ضابطہ جاتی نگرانی بھی اہم سوالات رہیں گے۔
نو امیدواروں کی منظوری سے اب مسابقتی عمل کا دائرہ واضح ہوا ہے، تاہم کامیاب بولی دہندہ کا تعین ابھی باقی ہے۔ نجکاری کے کسی بھی حتمی معاہدے میں اثاثوں اور واجبات کی قدر، ملازمین سے متعلق ذمہ داریاں، سرمایہ کاری کے وعدے اور ریگولیٹری شرائط اہم ہو سکتی ہیں۔
اس پیش رفت کو مکمل نجکاری کے بجائے ایک عبوری مرحلہ سمجھنا ضروری ہے۔ اگلے مراحل میں اہل امیدواروں کو تفصیلی معلومات تک رسائی، ضروری جانچ پڑتال اور بولی کی شرائط کا سامنا ہوگا۔ حکومت کے لیے عمل کی شفافیت اور مسابقت برقرار رکھنا اہم ہوگا تاکہ گیپکو کے مستقبل کے انتظام سے متعلق فیصلہ مالی مفاد کے ساتھ بجلی صارفین اور نظام کی طویل مدتی ضروریات کو بھی مدنظر رکھ سکے۔

