برلن: جرمنی سردیوں میں گیس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے براہ راست سرکاری خریداری کے بجائے مارکیٹ پر مبنی مراعات بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ رائٹرز نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ وزیر معیشت کترینا رائخ کا منصوبہ ہے کہ تاجروں اور توانائی کمپنیوں کو زیادہ گیس ذخیرہ کرنے یا ضرورت کے وقت دستیاب رکھنے کے لیے مالی و تجارتی ترغیبات دی جائیں، تاکہ موسم سرما میں رسد کے ممکنہ دباؤ سے نمٹا جا سکے۔
منصوبے کے تحت خزاں میں ہونے والے ’لانگ ٹرم آپشنز‘ یا ایل ٹی او ٹینڈر کا حجم بڑھایا جائے گا۔ حکومتی ذریعے کے مطابق اضافی گیس کی حتمی مقدار ابھی طے نہیں ہوئی۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ ہے کہ ریاست خود بڑے پیمانے پر گیس خرید کر ذخیرہ کرنے کے بجائے مارکیٹ کے شرکا کو ایسی شرائط فراہم کرے جن کے تحت وہ ضرورت کے وقت مخصوص مقدار میں گیس مہیا کرنے کے پابند یا ترغیب یافتہ ہوں۔
جرمنی نے گزشتہ چند برسوں میں توانائی کی فراہمی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں اور گیس ذخائر کی سطح کو موسم سرما کی توانائی سلامتی کے لیے اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی توانائی منڈیاں عالمی سیاسی کشیدگی، درآمدی راستوں اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ حکومت بظاہر اس بات سے گریز کرنا چاہتی ہے کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے براہ راست گیس کی بڑی خریداری کی جائے، تاہم ساتھ ہی ذخیرہ اور دستیابی کی سطح کو محفوظ رکھنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق مجوزہ پالیسی کی مکمل تفصیلات ابھی حتمی نہیں اور ایل ٹی او ٹینڈر میں شامل کی جانے والی اضافی مقدار بعد میں طے کی جائے گی۔ اس لیے منصوبے کو حتمی سرکاری خریداری یا طے شدہ حجم کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ تاہم حکومتی ذریعے کی معلومات سے یہ واضح ہے کہ برلن سردیوں سے قبل گیس کی رسد کو مضبوط بنانے کے لیے مارکیٹ مراعات کو مرکزی آلہ بنانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔

