پشاور: خیبر پختونخوا کے سرکاری گوداموں میں دستیاب گندم کے ذخائر کم ہو کر تقریباً 189 ہزار میٹرک ٹن رہ گئے ہیں، جو صوبے کی موجودہ یومیہ ضرورت کے حساب سے تقریباً 13 دن کے استعمال کے برابر بنتے ہیں۔ محکمہ خوراک کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں روزانہ قریب 14 ہزار 900 میٹرک ٹن گندم درکار ہوتی ہے، جس کے باعث موجودہ ذخائر کی سطح نے رسد کے تسلسل سے متعلق توجہ بڑھا دی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی سالانہ گندم ضرورت تقریباً 5.436 ملین میٹرک ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار قریب 1.472 ملین میٹرک ٹن بتائی گئی ہے۔ اس حساب سے صوبے کو سالانہ تقریباً 3.964 ملین میٹرک ٹن کے فرق کا سامنا رہتا ہے اور اپنی مجموعی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے صوبے سے باہر کی سپلائی پر نمایاں انحصار کرنا پڑتا ہے۔

سرکاری ذخائر میں کمی کے باعث گندم کی دستیابی سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم حکام کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، پاسکو، سے 225 ہزار میٹرک ٹن گندم کی اضافی کھیپ سپلائی پائپ لائن میں موجود ہے۔ یہ کھیپ صوبے تک پہنچنے کے بعد سرکاری ذخائر میں اضافہ کرے گی اور فوری دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

دستیاب اعداد یہ واضح کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گندم کی مقامی پیداوار اور سالانہ کھپت کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ اس لیے سرکاری ذخائر کی سطح صرف گوداموں میں موجود مقدار کا معاملہ نہیں بلکہ بین الصوبائی یا وفاقی سطح سے آنے والی رسد کے بروقت جاری رہنے سے بھی براہ راست جڑی ہے۔

رپورٹ میں کسی فوری قلت، راشن بندی یا قیمتوں سے متعلق نئے سرکاری اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ صورتحال میں تصدیق شدہ بنیادی اعداد یہی ہیں کہ ذخائر 189 ہزار میٹرک ٹن، روزانہ ضرورت تقریباً 14 ہزار 900 ٹن اور پاسکو سے آنے والی کھیپ 225 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اضافی کھیپ کی بروقت ترسیل صوبائی ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اہم ہوگی۔