اسلام آباد/گلگت: وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے مستقبل کے آئینی اور انتظامی بندوبست سے متعلق تجاویز پر مشاورت آگے بڑھانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس ستمبر کے اختتام سے پہلے متوقع ہے، جس کا مقصد مختلف تجاویز پر متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور وفاق کے ساتھ مالی و انتظامی تعلق ایک طویل عرصے سے زیر بحث موضوع ہے۔ نئی مشاورت میں ایسے انتظامی اور مالی طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے جو خطے کی ضروریات، حکمرانی اور وفاقی ڈھانچے کے ساتھ تعلق کو واضح کرسکے۔ اس عمل میں حتمی فیصلے سے پہلے وسیع تر مشاورت پر زور دیا گیا ہے، اس لیے موجودہ تجاویز کو ابھی طے شدہ آئینی تبدیلی نہیں سمجھا جاسکتا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب گلگت بلتستان مالی مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ تاخیر کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔ بجٹ میں تاخیر اور مالی قلت نے وفاق اور خطے کے درمیان وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار کو بھی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی سطح پر این ایف سی سے منسلک کسی مالی فریم ورک سمیت مختلف امکانات پر گفتگو سامنے آچکی ہے۔
آئینی بندوبست سے متعلق کسی بھی نئی اسکیم کے لیے قانونی، سیاسی اور انتظامی پہلو اہم ہوں گے۔ گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں، مقامی سیاسی قوتوں اور وفاقی اداروں کی آرا اس عمل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل کے انتظام کے بارے میں وسیع مشاورت کی جائے گی تاکہ ایسا حل تلاش کیا جاسکے جس پر قابل عمل اتفاق رائے موجود ہو۔
ستمبر کے اختتام سے پہلے متوقع کمیٹی اجلاس اگلے مرحلے کی سمت واضح کرسکتا ہے۔ فی الحال کسی حتمی آئینی ترمیم یا انتظامی فارمولے کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے آئندہ اجلاس اور سرکاری دستاویزات ہی یہ طے کریں گی کہ زیر غور تجاویز میں سے کون سی عملی شکل اختیار کرتی ہیں۔




