گلگت: گلگت بلتستان حکومت نے مقامی کسانوں کو معیاری اور سرٹیفائیڈ گندم بیج 50 فیصد سبسڈی پر فراہم کرنے کے لیے نیا منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اسکیم کے تحت خطے کے تمام اضلاع میں اہل کسانوں تک بیج پہنچانے کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ منصوبے کی متوقع لاگت تقریباً 140 ملین روپے بتائی گئی ہے۔
ڈان کے مطابق گلگت بلتستان کے سیکریٹری زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز عثمان احمد نے بتایا کہ اقدام کا مقصد مقامی زرعی پیداوار بڑھانا، کسانوں کو معیاری بیج تک کم لاگت میں رسائی دینا اور خطے کو زرعی شعبے میں زیادہ خود کفیل بنانے کی سمت پیش رفت کرنا ہے۔ منصوبہ وزیراعلیٰ کے زرعی وژن کے تحت شروع کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اعلیٰ معیار کا سرٹیفائیڈ گندم بیج پنجاب سے حاصل کیا جائے گا اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے کسانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ 50 فیصد سبسڈی کا مطلب یہ ہے کہ بیج کی لاگت کا نصف حصہ سرکاری معاونت کے ذریعے برداشت کیا جائے گا، جس سے کاشتکاروں کے ابتدائی پیداواری اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محکمہ زراعت نے اسکیم کے لیے آن لائن پورٹل شروع کیا ہے تاکہ درخواست اور تقسیم کے عمل کو نسبتاً آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔ حکام نے یہ سہولت بھی رکھی ہے کہ جو کسان آن لائن نظام استعمال نہیں کر سکتے وہ اپنے ضلع میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت یا متعلقہ زرعی افسر کے دفتر سے رابطہ کرکے رجسٹریشن کرا سکیں۔ اس طرح دور دراز علاقوں کے ایسے کاشتکار بھی اسکیم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جن کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن مشکل ہو۔
گلگت بلتستان میں زرعی زمین اور موسمی حالات میدانی علاقوں سے مختلف ہیں، اس لیے معیاری بیج کی دستیابی مقامی پیداوار کے لیے اہم عنصر ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں اس منصوبے سے متوقع اضافی گندم پیداوار، مستفید ہونے والے کسانوں کی حتمی تعداد یا فی کسان بیج کی مقررہ حد کے تفصیلی اعداد نہیں دیے گئے۔ ان معاملات کا انحصار رجسٹریشن، خریداری اور تقسیم کے عملی مرحلے پر ہوگا۔
یہ اسکیم خوراک کی مقامی پیداوار بڑھانے کی حکومتی کوشش کا حصہ ہے، لیکن اس کی کامیابی کا جائزہ بیج کی بروقت فراہمی، تمام اضلاع میں منصفانہ تقسیم، فصل کی پیداوار اور کسانوں کی عملی شرکت کے بعد ہی لیا جا سکے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت منصوبے کے آغاز، 50 فیصد سبسڈی، پنجاب سے سرٹیفائیڈ بیج کی خریداری اور رجسٹریشن پورٹل کے اجرا تک محدود ہے۔

