اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پولیس کی حراست میں موجود دو ہتھکڑی لگے ملزمان ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔ اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد کو راول ٹاؤن میں لوٹے گئے سامان کی برآمدگی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے لے جایا گیا تھا، جہاں چھپے ہوئے مسلح افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کر دی اور گولیاں زیر حراست ملزمان کو لگیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد افغان شہری تھے اور انہیں 12 اکتوبر کو انقرہ پارک میں ایک 23 سالہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ سیکریٹریٹ تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

شکایت کے مطابق تین مسلح افراد نے پارک میں چہل قدمی کرنے والی خاتون کو روکا، موبائل فون چھینا اور مبینہ طور پر اسے قریبی جھاڑیوں کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ خاتون کی مزاحمت پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ملزمان فرار ہوگئے۔ یہ الزامات مقدمے اور پولیس کی تحقیقات کا حصہ ہیں؛ ہلاک ہونے والے افراد کے خلاف ان الزامات پر عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش گرفتار افراد نے راول ٹاؤن میں اپنے ٹھکانے کی نشاندہی کی اور لوٹا ہوا سامان برآمد کرانے اور ساتھیوں تک پہنچنے میں مدد کی پیشکش کی۔ پولیس ٹیم انہیں ایک کباڑ خانے کے قریب لے گئی، جہاں پولیس کے مطابق جنگلاتی حصے میں چھپے چار مسلح افراد نے ملزمان کو چھڑانے کے ارادے سے فائرنگ کی۔ پولیس اہلکار مبینہ طور پر محفوظ رہے جبکہ دونوں زیر حراست افراد زخمی ہوئے اور بعد میں اسپتال میں دم توڑ گئے۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

یہ تمام تفصیل پولیس کے بیان اور پولیس ذرائع پر مبنی ہے اور دستیاب رپورٹ میں کسی آزاد عدالتی یا فرانزک تحقیقات کا نتیجہ شامل نہیں۔ اس لیے ملزمان کی موت کے حالات کو پولیس کا دعویٰ سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ واقعہ۔ زیر حراست افراد کی ہلاکت کے معاملات میں فائرنگ کی سمت، اسلحے، جائے وقوعہ اور پولیس کارروائی کی آزاد جانچ اہم ہو سکتی ہے، مگر اس واقعے کے بارے میں ایسی کسی مکمل تحقیق کا نتیجہ ابھی رپورٹ نہیں ہوا۔

ڈان کے مطابق رواں سال وفاقی دارالحکومت میں مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے مشتبہ افراد کی تعداد اس واقعے کے بعد سات ہوگئی، جبکہ مجموعی طور پر 62 مقابلوں میں 53 مشتبہ افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ اعداد پولیس سے منسوب ہیں۔ تازہ واقعے میں فرار ہونے والے مبینہ حملہ آوروں کی گرفتاری یا کسی اہلکار کے خلاف کارروائی کے بارے میں رپورٹ میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں دی گئی۔