کراچی: سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے چھ عام استعمال کی ادویات کے سات نمونوں کو جانچ کے بعد جعلی قرار دیا ہے۔ لیبارٹری رپورٹس کے مطابق نمونوں میں وہ فعال ادویاتی اجزا قابلِ شناخت مقدار میں موجود نہیں تھے جو متعلقہ مصنوعات میں ہونے چاہئیں، جبکہ پیکنگ پر جن دوا ساز کمپنیوں کے نام درج تھے انہوں نے بھی ان نمونوں کو اپنی تیار کردہ مصنوعات تسلیم نہیں کیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ ناموں میں Augmentin 625mg، Velosef 500mg، No-Spa Forte 80mg، Mucon Suspension، Brexin tablets اور Lexoberon Liquid شامل ہیں۔ Lexoberon Liquid کے دو الگ بیچوں کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے، اسی لیے چھ مصنوعات کے مجموعی طور پر سات نمونے رپورٹ میں شامل ہیں۔ صوبائی سرکاری تجزیہ کار اور سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی کے ڈائریکٹر سید عدنان رضوی کی جاری کردہ رپورٹس میں انہیں ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت counterfeit قرار دیا گیا۔
لیبارٹری کے مطابق Augmentin 625mg کے زیرِ جانچ نمونے میں amoxicillin trihydrate اور clavulanic acid قابلِ شناخت نہیں تھے۔ پیکنگ پر GlaxoSmithKline Pakistan Limited کا نام درج تھا، تاہم کمپنی نے 24 ستمبر 2026 کے خط میں متعلقہ نمونے کو اپنی تیار کردہ مصنوعات تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح Velosef 500mg کے نمونے میں cefradine نہیں ملا اور کمپنی نے 9 ستمبر کے خط میں اس کی تیاری سے انکار کیا۔
No-Spa Forte 80mg کے نمونے میں drotaverine hydrochloride کا پتہ نہیں چلا، جبکہ پیکنگ پر درج Hoechst Pakistan Limited نے 7 ستمبر کے خط میں اس مصنوعات کو اپنی پیداوار ماننے سے انکار کیا۔ Mucon Suspension میں oxethazaine، aluminium hydroxide اور magnesium hydroxide مطلوبہ طور پر نہیں ملے اور Lucky Core Limited Pharmaceuticals نے بھی نمونے کی تیاری سے لاتعلقی ظاہر کی۔ Brexin tablets کے نمونے میں piroxicam beta-cyclodextrin قابلِ شناخت نہ ہونے کی اطلاع دی گئی اور پیکنگ پر درج کمپنی نے اسے اپنی مصنوعات تسلیم نہیں کیا۔
Lexoberon Liquid کے دو نمونے، بیچ نمبر 46292 اور 43445، بھی ٹیسٹ میں مطلوبہ sodium picosulfate monohydrate کی موجودگی ظاہر نہ کر سکے۔ یہ نتائج مخصوص نمونوں اور بیچوں سے متعلق ہیں؛ اس بنا پر انہی برانڈ ناموں کے تحت مارکیٹ میں موجود ہر دوا کو بلا امتیاز جعلی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ کا مرکز انہی حاصل شدہ نمونوں کی جانچ اور ان کی پیکنگ پر درج مینوفیکچررز کی تصدیق ہے۔
جعلی ادویات کا معاملہ صحت عامہ کے لیے اس لیے اہم ہے کہ مطلوبہ فعال جزو موجود نہ ہونے کی صورت میں مریض کو متوقع علاج نہیں ملتا اور بیماری کے علاج میں تاخیر یا پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مریض کے متاثر ہونے، کسی کمپنی کے خلاف الزام ثابت ہونے یا پورے برانڈ کی ملک گیر واپسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اگلی کارروائی متعلقہ ڈرگ ریگولیٹری اور صوبائی حکام کی قانونی و انتظامی ذمہ داریوں کے تحت ہو سکتی ہے۔

