اسلام آباد: وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو بتایا ہے کہ ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کے لیے پارکنگ سہولت قائم کرنے کی غرض سے پیش کی گئی 17 ایکڑ اراضی بدستور دستیاب ہے، جبکہ ایکسل لوڈ مینجمنٹ کے مسئلے پر ٹرانسپورٹرز اور بندرگاہی حکام کو باہمی طور پر قابل قبول حل تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کا چھ رکنی وفد، جس کی قیادت تنظیم کے صدر ملک شہزاد اعوان کر رہے تھے، وزیر بحری امور سے ان کے دفتر میں ملا۔ وفد میں نثار حسین جعفری، بختاور خان وزیر اور عمر فاروق سمیت دیگر نمائندے شامل تھے۔ ٹرانسپورٹرز نے پارکنگ مسائل کے حل میں وزارت کے کردار پر وزیر کا شکریہ ادا کیا۔
جنید انور چوہدری نے وفد کو بتایا کہ گزشتہ ملاقات میں کیے گئے وعدوں پر وہ قائم ہیں اور پارکنگ سہولت کے لیے مختص یا پیش کی گئی 17 ایکڑ زمین ابھی بھی دستیاب ہے۔ سرکاری بیان میں زمین کے عین مقام، تعمیراتی لاگت، پارکنگ کی مجوزہ گنجائش یا منصوبے کے آغاز کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی، اس لیے اسے فی الحال دستیاب اراضی اور پالیسی سہولت کاری کی سطح کی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹ شعبے میں بندرگاہوں کے قریب مناسب پارکنگ کی کمی سے سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ، انتظار کا وقت، لاجسٹکس لاگت اور شہری ٹریفک کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ بڑے تجارتی مراکز اور بندرگاہی علاقوں میں منظم ٹرک پارکنگ مال برداری کے بہاؤ، ڈرائیوروں کی سہولت اور بندرگاہی آپریشنز کی پیش گوئی پذیری کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
ایکسل لوڈ مینجمنٹ کے معاملے پر وزیر نے ٹرانسپورٹ الائنس سے کہا کہ بندرگاہوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کر کے ایسا حل تیار کیا جائے جو آپریشنل ضروریات اور قانونی وزن کی پابندیوں دونوں کو سامنے رکھے۔ اس مسئلے کا تعلق سڑکوں کے تحفظ، گاڑیوں کی آپریٹنگ لاگت، مال برداری کی کارکردگی اور بندرگاہ سے اندرون ملک سامان کی نقل و حرکت سے ہے۔
ملاقات کے بعد کسی نئے ضابطے، فیس، رعایت یا ایکسل لوڈ حد میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اگلا عملی مرحلہ متعلقہ بندرگاہی اداروں اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مشاورت اور پارکنگ سہولت کے لیے دستیاب زمین کے استعمال کے تفصیلی انتظامات طے کرنا ہوگا۔
