اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیموں کے تحت انفرادی قرض کی زیادہ سے زیادہ حد پچھتر لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے کردی ہے۔ آٹھ نومبر کو اسکیموں کے جائزہ اجلاس میں نوجوانوں کی کاروباری اور زرعی سرگرمیوں میں شمولیت بڑھانے کے لیے متعدد ہدایات دی گئیں۔

ریڈیو پاکستان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے قرض حاصل کرنے کی کم از کم عمر اکیس سے کم کرکے اٹھارہ سال کرنے کی بھی ہدایت کی۔ مقصد نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے اور زراعت سے متعلق سرگرمیوں میں نسبتاً کم عمر میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ نئی حد کا اعلان ہر درخواست گزار کے لیے قرض کی خودکار منظوری نہیں ہے۔

اجلاس میں خواتین کے لیے قرضوں کا تیس فیصد حصہ مختص کرنے کی ہدایت دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری شرکت کے لیے ان تک مالی سہولتوں کی رسائی بڑھائی جائے۔ متعلقہ اداروں کو اسکیموں اور دستیاب مواقع کے بارے میں ملک گیر آگاہی مہم چلانے کا بھی کہا گیا۔

اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو نوجوانوں کی مدد، کاروبار شروع کرنے کے لیے رہنمائی، مشاورتی خدمات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس تعاون کا تعلق صرف قرض کی فراہمی سے نہیں بلکہ کاروبار کی تیاری اور اسے چلانے کے لیے ضروری معلومات سے بھی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس میں ان اسکیموں کے لیے دو سو بانوے ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق جنوری دو ہزار تئیس سے نوجوانوں میں تین سو تیرہ اعشاریہ نو ارب روپے کے قرض تقسیم ہوچکے ہیں۔ یہ گزشتہ تقسیم اور موجودہ سال کی تخصیص کے الگ اعداد ہیں؛ انہیں نئی درخواستوں کی حتمی منظوری یا یکساں شرائط کی ضمانت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔