اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت یوتھ بزنس لون اسکیم اور یوتھ ایگریکلچر لون اسکیم کے جائزہ اجلاس میں نوجوانوں کے لیے قرض کی زیادہ سے زیادہ انفرادی حد 75 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور عرب نیوز پاکستان کی 8 نومبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قرض آسان اقساط میں فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوان کاروبار شروع کرنے اور زرعی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے نسبتاً زیادہ مالی وسائل حاصل کر سکیں۔

اجلاس میں رواں مالی سال 2026-27 کے دوران ان اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 292 ارب روپے کے قرض فراہم کرنے کے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق اس مدت میں تقریباً 2 لاکھ 66 ہزار 700 نوجوانوں کو قرض دینے کا تخمینہ ہے۔ وزیراعظم نے پروگرام کے تحت 30 فیصد قرض خواتین کے لیے مختص کرنے کی ہدایت بھی کی، جس کا مقصد نوجوان خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری سرگرمیوں میں شرکت بڑھانا بتایا گیا ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی کے تحت درخواست دہندگان کی کم از کم اہل عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس اقدام سے نوجوانوں کو نسبتاً کم عمر میں کاروباری یا زرعی منصوبوں کے لیے مالی معاونت تک رسائی دینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سمیڈا، کو بھی ہدایت کی کہ درخواست گزار نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے، منصوبہ بندی، مشاورت اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے۔ متعلقہ اداروں کو ملک گیر آگاہی مہم چلانے کا بھی کہا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری 2023 سے اب تک 5 لاکھ 81 ہزار 341 نوجوانوں کو ان پروگراموں کے تحت قرض مل چکا ہے اور اس عرصے میں 313.9 ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ حکام نے موجودہ تعداد کو اس سے پہلے کے دس سال کے مستفید افراد کے مقابلے میں تقریباً دس گنا قرار دیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان رانا مشہود احمد خان اور معاون خصوصی برائے سیاسی امور طلحہ برکی بھی شریک تھے۔ نئی ہدایات کے عملی نفاذ میں قرض کی جانچ، بینکنگ شرائط اور اسکیم کے متعلقہ قواعد بدستور لاگو ہوں گے، اس لیے اعلان کو ہر درخواست گزار کے لیے خودکار منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔