گوگل نے پاکستانی خاندانوں کے آن لائن تحفظ کے لیے پانچ لاکھ ڈالر کی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کے مطابق گوگل ڈاٹ آرگ کی فنڈنگ سے ڈیجیٹل پاسبان پروگرام چلایا جائے گا، جس کا ہدف دو لاکھ گھرانوں تک اردو زبان میں حفاظتی ٹول کٹس، ویڈیوز اور والدین کے لیے تربیتی ورکشاپس پہنچانا ہے۔
پروگرام مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بچوں اور بڑوں میں صحت مند آن لائن عادات پیدا کرنے، سائبر بُلنگ، آن لائن گرومنگ اور نامناسب مواد جیسے خطرات سمجھنے میں مدد دے گا۔ گوگل کے پبلک پالیسی نائب صدر ولسن وائٹ نے کہا کہ مقصد والدین اور بچوں کو ڈیجیٹل اضطراب سے نکال کر اعتماد اور عملی سمجھ بوجھ دینا ہے۔
یہ سرمایہ کاری پاکستان میں گوگل کے مقامی کاروباری وجود کے وسیع منصوبے سے منسلک ہے۔ کمپنی نے اسی ہفتے کراچی میں اپنا دفتر کھولا، جو پاکستان میں رجسٹریشن کے تقریباً چار سال بعد عملی موجودگی کی نئی سطح ہے۔ گوگل کے علاقائی ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل موافقت، مواد تخلیق، گیمنگ، فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی مہارت کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
گوگل اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق دونوں ادارے بچوں، والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والوں کے لیے آگاہی، ذمہ دارانہ پلیٹ فارم استعمال اور صلاحیت سازی کے پروگراموں پر کام کریں گے۔
پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ ادارے کو بچوں کو نشانہ بنانے والے نامناسب مواد اور منفی سرگرمیوں کے بارے میں روزانہ تقریباً پانچ سو شکایات ملتی ہیں۔ انہوں نے نفاذ کے ساتھ احتیاطی حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ عدد پی ٹی اے کے بیان سے منسوب ہے اور پورے ملک میں ہر آن لائن نقصان کا جامع پیمانہ نہیں۔
پانچ لاکھ ڈالر کی رقم پروگرام کے لیے اعلان شدہ معاونت ہے؛ دستیاب رپورٹ میں ہر شراکت دار، ضلع، ورکشاپ یا خرچ کی مکمل تقسیم شامل نہیں۔ اردو ہیڈ لائنز پروگرام کے عملی آغاز، اندراج کے طریقے اور گھرانوں تک رسائی کی تصدیق باضابطہ اعلان سے کرے گا۔ والدین کسی غیر سرکاری لنک پر ذاتی معلومات دینے کے بجائے گوگل یا پی ٹی اے کے سرکاری ذرائع دیکھیں۔




