ہیلسنکی: الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے فن لینڈ میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر اگلے دو سال کے دوران کم از کم 13 ارب یورو، تقریباً 15.1 ارب ڈالر، کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ یورپ میں اس کی اب تک کی سب سے بڑی واحد سرمایہ کاری ہوگی اور اس میں ملک کے شمالی حصے میں تین نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر شامل ہے۔
فن لینڈ کی سرد آب و ہوا اور نسبتاً مستحکم بجلی کا نظام بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے کشش رکھتا ہے، کیونکہ اے آئی کمپیوٹنگ کے سرورز کو چلانے اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ کم درجہ حرارت بعض اوقات کولنگ کی توانائی لاگت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
منصوبے کا ایک اہم حصہ فن لینڈ کی توانائی کمپنی فورٹم کے ساتھ 22 سالہ بجلی خریداری کا معاہدہ ہے۔ فورٹم کے مطابق گوگل ملک کے دو جوہری بجلی گھروں میں سے ایک کی پیداوار کا 50 فیصد تک خرید سکے گا۔ گوگل کی صدر اور چیف انویسٹمنٹ آفیسر روتھ پورات نے اسے کمپنی کا امریکا سے باہر پہلا جوہری توانائی معاہدہ قرار دیا۔
فورٹم اور گوگل فن لینڈ میں نئی جوہری اور قابل تجدید توانائی کی ترقی کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔ فورٹم کا کہنا ہے کہ طویل مدتی معاہدہ لوویسا جوہری پلانٹ کی 2050 تک عمر بڑھانے اور اپ گریڈ کے لیے اقتصادی یقین دہانی فراہم کرتا ہے۔ اس اعلان کے بعد فورٹم کے حصص میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گوگل کے مطابق سرمایہ کاری میں ڈیٹا سینٹرز کے علاوہ بجلی کے گرڈ میں بہتری، صاف توانائی اور بیٹری منصوبے شامل ہوں گے، جو جیمنی، سرچ، میپس اور یوٹیوب جیسی خدمات کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کریں گے۔ سرمایہ کاری 2027 اور 2028 کے لیے منصوبہ بند ہے۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ تعمیراتی مرحلے میں یہ منصوبے فن لینڈ کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 3.6 ارب یورو کا حصہ ڈال سکتے ہیں اور مکمل آپریشن کے بعد سالانہ تقریباً 7,000 ملازمتوں کی معاونت کر سکتے ہیں۔ یہ کمپنی کے اپنے تخمینے ہیں۔
فن لینڈ کے وزیراعظم پیٹری اورپو نے اس منصوبے کو معیشت، تحقیق اور اختراع کے لیے مثبت قرار دیا اور بجلی کی دستیابی سے متعلق خدشات کو کم اہم بتایا۔ بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی توانائی طلب عالمی سطح پر تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسی لیے ٹیکنالوجی کمپنیاں کم کاربن اور مسلسل دستیاب بجلی کے طویل مدتی ذرائع تلاش کر رہی ہیں۔ فن لینڈ کا منصوبہ اسی وسیع رجحان کی ایک بڑی مثال ہے۔




