اسلام آباد میں میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک نے گوگل اور حکومت پاکستان کے درمیان حالیہ شراکت داری سے متعلق ڈیٹا پرائیویسی، نگرانی اور مواد کی پابندی کے معاملات پر وضاحت مانگی ہے۔ ڈان کے مطابق تنظیم نے ایک کھلے خط میں سوال اٹھایا ہے کہ نئی شراکت داری پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو آگے بڑھاتے ہوئے شہریوں کی ذاتی معلومات، صحافیوں کے ذرائع اور آن لائن آزادیوں کے تحفظ کو کس طرح یقینی بنائے گی۔
فریڈم نیٹ ورک نے گوگل کے پاکستان میں دفتر کھولنے اور حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں اور دیگر معاہدوں کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ ان انتظامات کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئیں۔ تنظیم نے پوچھا کہ آیا گوگل اور حکومت تمام متعلقہ ایم او یوز، معاہدے اور انتظامات شائع کریں گے اور اگر کسی شق کو خفیہ رکھا گیا ہے تو اس کی قانونی بنیاد اور فیصلہ کرنے والے ادارے کی وضاحت کیا ہوگی۔
واچ ڈاگ نے خاص طور پر صارفین کے ڈیٹا، میٹا ڈیٹا، سرکاری ڈیٹا بیس اور مواد تک رسائی سے متعلق ممکنہ انتظامات پر سوالات اٹھائے۔ اس نے یہ جاننا چاہا کہ پاکستانی حکام کن حالات میں گوگل صارفین کی معلومات طلب کر سکتے ہیں، کیا ہر درخواست قانونی عمل اور عدالتی نگرانی سے مشروط ہوگی، اور کیا کمپنی ایسی درخواستوں کو مسترد کرے گی جو بہت وسیع، غیر واضح یا بنیادی حقوق سے متصادم ہوں۔
صحافیوں کے حوالے سے تنظیم نے جی میل، گوگل ڈرائیو، تصاویر، یوٹیوب اکاؤنٹس، سرچ سے متعلق معلومات اور ایسے دوسرے ڈیٹا کے تحفظ کی ضمانتوں کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی جن سے خفیہ ذرائع کی شناخت ممکن ہو سکتی ہے۔ فریڈم نیٹ ورک نے مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کی حکومتی درخواستوں کے لیے شفاف قانونی معیار، جہاں قانون اجازت دے وہاں صارف کو اطلاع اور فیصلے کو چیلنج کرنے کے موقع کی ضرورت پر زور دیا۔
تنظیم نے ڈیٹا کی جغرافیائی میزبانی کا سوال بھی اٹھایا کہ پاکستانی صارفین کی معلومات ملک کے اندر محفوظ ہوں گی، بیرون ملک یا دونوں جگہ۔ اس نے آزادانہ آڈٹ کے نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویسی اور انسانی حقوق سے متعلق safeguards کی نگرانی صرف حکومت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تمام نکات فریڈم نیٹ ورک کے مطالبات اور خدشات ہیں؛ رپورٹ میں گوگل یا حکومت کی جانب سے ان سوالات کا کوئی تفصیلی نیا جواب شامل نہیں تھا۔ اس لیے معاہدوں میں حقیقی طور پر کون سی شقیں موجود ہیں، اس بارے میں حتمی نتیجہ متعلقہ دستاویزات یا فریقین کی باقاعدہ وضاحت کے بغیر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
