اسلام آباد/ٹوکیو: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کی نمایاں گنجائش موجود ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سیمی کنڈکٹرز، چپ ڈیزائن، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، الیکٹرک موبیلٹی، سائبر سکیورٹی اور کلین ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

انہوں نے 16 ستمبر کو ٹوکیو میں منعقدہ پاکستان بزنس سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاپان تکنیکی مہارت، جدت اور صنعتی معیار کا تجربہ رکھتا ہے جبکہ پاکستان نوجوان آبادی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے انسانی وسائل کی بنیاد پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر مشترکہ تخلیق اور ٹیکنالوجی کی تیاری کے ماڈلز پر کام کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی خواہش صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی منڈی تک محدود رہنے کی نہیں بلکہ اس کی تیاری اور ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل رابطہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ملک کی پوزیشن مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سرمایہ کاری کے ماحول پر بات کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کو سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی سہولت، رابطہ کاری اور تسلسل فراہم کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جاپانی کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی اور معیشت کے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر براہ راست کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

خطاب میں کسی مخصوص جاپانی کمپنی کے ساتھ نئے پابند سرمایہ کاری معاہدے، منصوبے کی مالیت یا عمل درآمد کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ پیش رفت فی الحال دوطرفہ کاروباری اور تکنیکی تعاون کے امکانات کو وسعت دینے کی حکومتی دعوت اور پالیسی سمت کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ کسی ایک منصوبے کی حتمی منظوری۔

پاکستان میں آئی ٹی خدمات اور ڈیجیٹل معیشت کو برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری سے جوڑنے کی کوششوں کے تناظر میں جاپان کے ساتھ چپ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعاون تکنیکی مہارت کی منتقلی اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔ عملی پیش رفت کا انحصار کمپنی سطح کے مذاکرات، سرمایہ کاری فیصلوں اور متعلقہ ضابطہ جاتی تقاضوں پر ہوگا۔