چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بدھ کو امریکا میں قائم دفاعی اور اہم انفراسٹرکچر کمپنی POWERUS کے وفد سے ملاقات کی، جس میں دفاعی ٹیکنالوجی کے بدلتے رجحانات اور باہمی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق گفتگو میں دفاعی خریداری، پیداوار اور صلاحیت سازی سے متعلق مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق POWERUS کے وفد کی قیادت رابرٹ بریٹ ویلیکووچ نے کی۔ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی سلامتی اور اہم نظاموں کی مضبوطی کے لیے تکنیکی جدت اور جدید حل کی اہمیت پر زور دیا۔ فوجی ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں رابطوں کو مزید آگے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔
دستیاب معلومات کے مطابق ملاقات میں کسی مخصوص دفاعی معاہدے، خریداری کی مالیت، نظام یا آلات کی حتمی فراہمی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو ممکنہ تعاون پر ابتدائی یا جاری مشاورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی حتمی تجارتی یا دفاعی سودے کی تصدیق کے طور پر۔ آئی ایس پی آر نے بھی بیان میں تعاون کے امکانات، پیداوار اور صلاحیت سازی کی سطح پر گفتگو کا ذکر کیا ہے۔
POWERUS اپنی ویب سائٹ پر خود کو ایسے ہارڈویئر اور مربوط نظام تیار کرنے والی کمپنی کے طور پر پیش کرتی ہے جو حساس اور اہم انفراسٹرکچر کے ماحول میں اثاثوں اور نظاموں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ملاقات میں اس کمپنی کی ممکنہ شمولیت کے دائرہ کار کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
پاکستان اور امریکا کے دفاعی روابط میں حالیہ عرصے کے دوران تربیت اور فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق بعض سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ جنوری میں دونوں ملکوں کے فوجی اہلکاروں نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں ’ایکسسرسائز انسپائرڈ گیمبٹ‘ کے تحت مشترکہ تربیت مکمل کی تھی، جس میں انفنٹری مہارتوں، حربوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر توجہ دی گئی۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اپ گریڈ پیکیج کی فروخت کی منظوری بھی دی تھی، جس کی مالیت تقریباً 686 ملین ڈالر بتائی گئی تھی۔
POWERUS کے وفد کے ساتھ تازہ ملاقات دفاعی شعبے میں نجی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ روابط کی ایک نئی مثال ہے۔ تاہم عملی تعاون کی نوعیت، ٹائم لائن، مالی شرائط اور کسی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے تک اس پیش رفت کے حتمی نتائج کے بارے میں فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
