پاکستان اور چین نے داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھاتے ہوئے پاکستان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید قانون نافذ کرنے کا مرکز قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چین کے نائب وزیر برائے پبلک سکیورٹی گاو چی کے درمیان ملاقات میں ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات، پولیس تربیت اور جدید آلات کے استعمال پر بات چیت کی گئی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق چین مجوزہ مرکز کے قیام میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا۔ محسن نقوی نے اس منصوبے کو پاکستان اور چین کی دوستی کی ایک اور علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی اور جدید آلات پاکستان کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ دونوں فریقوں نے داخلی سلامتی کے میدان میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔
ملاقات میں پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کو بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی و آلات کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ چینی نائب وزیر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہا۔ دستیاب تفصیلات میں مجوزہ اے آئی مرکز کی لاگت، مقام، عملی ڈھانچے، ڈیٹا گورننس کے قواعد یا تکمیل کی تاریخ بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں فی الحال حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کے پہلے سے جاری سلسلے کا حصہ ہے۔ فروری 2025 میں بھی دونوں ملکوں کے حکام نے انٹیلی جنس اور سکیورٹی تعاون، سرحدی انتظام اور پاکستان کی پولیس و نیم فوجی اداروں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور آلات کے حصول پر بات کی تھی۔ اس دوران نیشنل پولیس اکیڈمی اور اسلام آباد و بیجنگ کی پولیس فورسز کے درمیان تعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔
جولائی 2026 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے موقع پر ہونے والی ایک ملاقات میں بھی داخلی سلامتی، سرحدی انتظام، غیر قانونی امیگریشن، منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے موضوعات زیر بحث آئے تھے۔ تازہ اتفاق رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حکومتیں روایتی تربیت اور معلوماتی تعاون کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اور جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی کو بھی دوطرفہ تعاون کا باقاعدہ حصہ بنانا چاہتی ہیں۔ منصوبے کی عملی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس کے دائرہ کار اور نفاذ کے طریقہ کار کی زیادہ واضح تصویر سامنے آئے گی۔
