اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل)/یوفون کو ہدایت کی ہے کہ وہ اونک برانڈ کے تحت نئی سمز اور ای سمز کا اجرا، نئے کنکشنز کی ایکٹیویشن، نئی سبسکرپشنز اور ان سے متعلق مارکیٹنگ و تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر نے یہ حکم 11 ستمبر کو جاری کیا، جبکہ اس معاملے پر ابتدائی نوٹس کے بعد عدالتی کارروائی بھی ہو چکی تھی۔
پی ٹی اے کے حکم میں کہا گیا کہ اونک کی الگ برانڈنگ، پیکجز، مخصوص موبائل ایپ، بلنگ اور کسٹمر مینجمنٹ نظام اور براہ راست صارف آپریشنز موجود ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ خصوصیات اس کاروباری ماڈل کو موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر، یعنی ایم وی این او، سے مشابہ بناتی ہیں۔ اسی بنیاد پر پی ٹی اے نے کمپنی سے کہا ہے کہ وہ نئی تجارتی سرگرمیاں روکنے کی تعمیل کرے اور مقررہ مدت میں رپورٹ جمع کرائے۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایم ایل کو سات کاروباری دنوں کے اندر تعمیلی رپورٹ دینا ہوگی جس میں تصدیق کی جائے کہ حکم میں شامل سرگرمیاں بند کر دی گئی ہیں۔ ایک سینئر پی ٹی اے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ موجودہ اونک صارفین کو تین ماہ کے اندر پی ٹی ایم ایل کے نظام میں منتقل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ متبادل طور پر کمپنی ایم وی این او لائسنس حاصل کر کے اونک کو الگ برانڈ کے طور پر جاری رکھنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
پی ٹی ایم ایل سرکاری ٹیلی کام کمپنی پی ٹی سی ایل کی ذیلی کمپنی ہے اور یوفون اس کے تحت کام کرتا ہے۔ حالیہ عرصے میں پی ٹی ایم ایل اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے تناظر میں بھی پاکستان کی موبائل مارکیٹ میں اہم ساختی تبدیلیاں جاری ہیں۔ پی ٹی اے کا تازہ حکم بنیادی طور پر لائسنسنگ اور برانڈ کے عملی ڈھانچے سے متعلق ہے اور اس سے موجودہ صارفین کی سروس فوری طور پر بند ہونے کا مطلب نہیں لیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد توجہ اس بات پر رہے گی کہ کمپنی موجودہ صارفین کی منتقلی، ممکنہ ایم وی این او لائسنس اور پی ٹی اے کی تعمیلی شرائط کے بارے میں کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔ کسی بھی آئندہ تبدیلی کا انحصار ریگولیٹری منظوری اور کمپنی کی جانب سے اختیار کیے جانے والے قانونی و تجارتی راستے پر ہوگا۔

