لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پنجاب کے تین شہروں میں الگ الگ مقدمات کے سلسلے میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ اور آن لائن دھمکیوں کے الزامات ہیں۔ ڈان کے مطابق کارروائیاں لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں کی گئیں اور متعدد موبائل فونز اور واٹس ایپ اکاؤنٹس سے متعلق ڈیجیٹل شواہد محفوظ کیے گئے ہیں۔

لاہور میں ایجنسی نے افتخار نامی شخص کو اس کی سابق اہلیہ کی شکایت پر گرفتار کیا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم نجی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے سابق اہلیہ کو ہراساں اور بلیک میل کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق تفتیش کے دوران واٹس ایپ پر مبینہ دھمکی آمیز پیغامات اور قابل اعتراض مواد ملا، جبکہ ایک موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا۔ یہ الزامات ابھی تفتیشی مرحلے میں ہیں اور عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کا کوئی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔

فیصل آباد میں آصف اور عرفان نامی دو افراد کو الگ مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ ان پر واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے شکایت کنندگان کو ہراساں، دھمکانے اور قابل اعتراض ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے بلیک میل کرنے کے الزامات ہیں۔ ملتان میں شعیب، محمد سالار اور احمد علی کو تین مختلف مقدمات میں حراست میں لیا گیا، جہاں ان سے متعلق تحقیقات خواتین کو الیکٹرانک ذرائع سے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزامات پر جاری ہیں۔

این سی سی آئی اے نے تمام متعلقہ موبائل آلات اور دستیاب ڈیجیٹل مواد کو فرانزک معائنے کے لیے محفوظ کیا ہے۔ سائبر مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد کی جانچ اہم مرحلہ ہوتی ہے کیونکہ تفتیش کار اکاؤنٹس، پیغامات، فائلوں اور آلات کے تکنیکی ریکارڈ کی بنیاد پر الزامات کی نوعیت اور ممکنہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہیں۔ حتمی قانونی نتیجہ تفتیش، استغاثہ اور عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آتا ہے۔

اسی رپورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جنوبی پنجاب اور گوجرانوالہ ریجن میں انسانی اسمگلنگ اور مالی فراڈ کے خلاف الگ کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں متعدد افراد گرفتار ہوئے۔ یہ کارروائیاں این سی سی آئی اے کے سائبر ہراسانی کے مقدمات سے الگ ہیں اور انہیں ایک ہی کیس نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات پر ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر کارروائی جاری رہے گی۔ تازہ گرفتاریاں اس مرحلے پر الزامات اور زیر تفتیش مقدمات کی حیثیت رکھتی ہیں؛ گرفتار افراد کے خلاف حتمی جرم ثابت ہونے یا سزا سنائے جانے کی اطلاع دستیاب نہیں۔