مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری خدمات کو تیز، شفاف اور شہریوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے مقصد سے متعدد ڈیجیٹل منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، ون ونڈو پبلک سروس سسٹم، شکایات کے اندراج اور نگرانی کا نظام اور جدید آئی ٹی مہارتوں کے لیے ایکسیلنس مراکز شامل ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ان منصوبوں پر عمل درآمد آزاد کشمیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ پیش رفت کا جائزہ وزیر اعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی زیر صدارت آئی ٹی بورڈ کے اجلاس میں لیا گیا، جہاں سیکریٹری آئی ٹی و اطلاعات راشد حنیف نے جاری منصوبوں اور ان کے نفاذ سے متعلق بریفنگ دی۔

زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا مقصد ملکیت اور دیگر اراضی سے متعلق معلومات کو شہریوں کے لیے زیادہ آسانی سے دستیاب بنانا اور کاغذی ریکارڈ و طویل انتظامی کارروائیوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ ڈیجیٹل ریکارڈ سے مختلف دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت میں کمی اور ریکارڈ کے انتظام میں شفافیت بڑھنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

ون ونڈو نظام کے تحت مختلف سرکاری خدمات کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ شہری ایک ہی معاملے کے لیے متعدد محکموں سے الگ الگ رابطہ کرنے کے بجائے ایک مربوط نظام کے ذریعے خدمات حاصل کر سکیں۔ مجوزہ شکایات سیل شہریوں کو شکایت درج کرانے اور اس پر ہونے والی کارروائی کی پیش رفت دیکھنے کا طریقہ فراہم کرے گا، جبکہ حکام بھی متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور بروقت کارروائی کی نگرانی کر سکیں گے۔

آئی ٹی ایکسیلنس مراکز کا بنیادی ہدف ٹیکنالوجی کی تربیت اور مہارتوں کی ترقی بتایا گیا ہے، خصوصاً نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل صلاحیتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا تاکہ ان کے لیے ڈیجیٹل معیشت میں روزگار اور کاروبار کے امکانات بہتر ہوں۔

وزیر اعظم افتخار گیلانی نے حکام کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری خدمات کو عوام کے لیے آسان، تیز اور شفاف بنایا جائے۔ انہوں نے شکایات کے اندراج، نگرانی اور حل کے لیے مؤثر اور قابلِ نگرانی نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا تاکہ شہریوں کو معمول کے معاملات میں غیر ضروری طور پر سرکاری دفاتر کے دورے نہ کرنا پڑیں اور انہیں بروقت جواب مل سکے۔