اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ استعداد کار نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز چین کے شہر ارمچی میں 2026 ایس سی او ڈیجیٹل اکانومی فورم کے دوران ڈیجیٹل گورننس اور استعداد کار سے متعلق موضوعاتی نشست میں دی گئی۔

وزارت منصوبہ بندی کے میڈیا ونگ کے حوالے سے بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا کہ مجوزہ نیٹ ورک کے ذریعے حکومتوں، سول سروس اکیڈمیوں، جامعات، تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی مراکز اور نجی شعبے کے اختراع کاروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ مقصد رکن ممالک کے درمیان تجربات، تربیت، تحقیق اور ڈیجیٹل پبلک سروسز کے طریقہ کار کا تبادلہ بڑھانا ہے۔

احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگلا مرحلہ صرف سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل شکل دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ توجہ ’’ڈیجیٹل گورننس‘‘ پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اس تصور میں حکومتی نظام کو شہریوں، ڈیٹا، مختلف نظاموں کے باہمی رابطے اور قابل پیمائش نتائج کے گرد ازسرنو ترتیب دینا شامل ہے۔

یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایس سی او ممالک ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور سرکاری خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجوزہ نیٹ ورک کے عملی ڈھانچے، فنڈنگ، رکن اداروں یا باقاعدہ آغاز کی تاریخ کے بارے میں رپورٹ میں حتمی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس لیے اسے فی الحال پاکستان کی جانب سے پیش کردہ پالیسی تجویز سمجھا جا رہا ہے، جس پر عمل درآمد کے لیے رکن ممالک کی مزید مشاورت اور اتفاق درکار ہوگا۔

پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف بھی اجاگر کیا گیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی میں ٹیکنالوجی کے ساتھ انتظامی اصلاحات اور انسانی استعداد کی تعمیر ضروری ہے۔ اگر ایس سی او سطح پر مجوزہ پلیٹ فارم آگے بڑھتا ہے تو اس کے ذریعے سرکاری اہلکاروں کی تربیت، تحقیقی شراکت داری اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق مشترکہ پروگراموں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم ان ممکنہ سرگرمیوں کی حتمی نوعیت ابھی طے نہیں ہوئی۔