کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ریگولیٹری سینڈ باکس کے پہلے کوہورٹ کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ پروگرام مرکزی بینک کے ویژن 2028 کے تحت ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں نئی ٹیکنالوجی اور کاروباری ماڈلز کو محدود اور نگرانی شدہ ماحول میں آزمانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پہلا کوہورٹ اگست 2025 میں شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد ایسے اختراعی مالیاتی حل کو حقیقی یا قریب بہ حقیقی حالات میں جانچنا تھا جنہیں مکمل پیمانے پر متعارف کرانے سے پہلے ریگولیٹری، عملی اور صارفین سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہو۔ سینڈ باکس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ نئی خدمات کو ایک متعین دائرے میں ریگولیٹر کی نگرانی کے ساتھ آزمایا جائے تاکہ ممکنہ فوائد اور خطرات دونوں کو سمجھا جا سکے۔

پہلے مرحلے میں تین اہم موضوعات شامل تھے: بیرون ملک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل، اوپن بینکنگ، اور تاجروں کی ریموٹ آن بورڈنگ۔ یہ تینوں شعبے پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالی شمولیت کے فروغ سے براہ راست متعلق ہیں، خصوصاً ایسے صارفین اور کاروباروں کے لیے جو روایتی بینکاری چینلز تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔

ریگولیٹری سینڈ باکس کی تکمیل کا مطلب یہ نہیں کہ آزمائش میں شامل ہر حل کو خودکار طور پر مستقل تجارتی منظوری مل گئی ہے۔ ایسے پروگراموں میں نتائج کی بنیاد پر ریگولیٹری تقاضوں، مزید جانچ یا ممکنہ مارکیٹ اجازت سے متعلق الگ فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں ہر شریک ادارے یا حل کے حتمی تجارتی اسٹیٹس کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کی یہ پیش رفت پاکستان کے مالیاتی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی کے لیے ایسا طریقہ کار تشکیل دینے کی کوشش کا حصہ ہے جس میں جدت اور صارف تحفظ دونوں کو ساتھ رکھا جا سکے۔ اوپن بینکنگ اور ریموٹ مرچنٹ آن بورڈنگ جیسے ماڈلز کے لیے ڈیٹا سکیورٹی، شناخت کی تصدیق، صارف کی رضامندی اور مختلف مالیاتی نظاموں کے درمیان محفوظ رابطہ اہم ریگولیٹری پہلو ہیں، جن کا جائزہ نگرانی شدہ آزمائشی ماحول میں زیادہ منظم انداز سے لیا جا سکتا ہے۔