پنجاب حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے باڈی ورن کیمروں کا منصوبہ شروع کر دیا ہے، جس کا ابتدائی آغاز لاہور سے کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق منصوبے کا مقصد پولیس کی جواب دہی اور نگرانی بہتر بنانا، عوامی تحفظ مضبوط کرنا اور فیلڈ پولیسنگ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہے۔ تربیت یافتہ اہلکار کیمرے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ تھانوں میں ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے ڈاکنگ اسٹیشنز کی تنصیب بھی شروع ہو گئی ہے۔

منصوبے کے تحت پنجاب پولیس کے ساتھ پنجاب ہائی وے پٹرول، ڈولفن فورس اور ٹریفک وارڈنز کے ڈیوٹی پر موجود اہلکار بھی باڈی کیمرے پہنیں گے۔ یہ آلات صوبے کے 43 شہروں میں کام کرنے والے اسمارٹ سیف سٹی نظام سے منسلک کیے جائیں گے، جس سے متعلقہ ضلعی سیف سٹی کنٹرول رومز میں براہ راست نگرانی ممکن ہوگی۔ اس نظام کا مقصد فیلڈ میں ہونے والی کارروائیوں کا قابلِ ریکارڈ ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرنا بھی ہے۔

حکام کے مطابق کیمروں میں ڈیجیٹل فیشل ریکگنیشن، موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس خودکار طور پر پڑھنے اور ہنگامی صورت حال میں فوری خطرے کے الرٹ پیدا کرنے جیسی صلاحیتیں شامل ہیں۔ آلات آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ، تصاویر اور کالنگ کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں، جبکہ بلٹ اِن میموری کے ذریعے ڈیوٹی کے دوران ریکارڈنگ محفوظ کی جا سکتی ہے۔ پش ٹو ٹاک فیچر اہلکاروں کو کنٹرول روم سے براہ راست رابطے اور ایس او ایس بٹن ہنگامی الرٹ بھیجنے کی سہولت دے گا۔

ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اہلکاروں کو کیمرے مقررہ ڈاکنگ اسٹیشنز پر واپس کرنا ہوں گے، جہاں ریکارڈ شدہ ڈیٹا خودکار طور پر منتقل اور محفوظ کیا جائے گا۔ اس طرح فیلڈ ریکارڈنگ کو مرکزی نگرانی کے نظام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دستیاب تفصیلات میں ڈیٹا رکھنے کی مدت، شہریوں کی رازداری، ریکارڈ تک رسائی کے اختیارات اور فیشل ریکگنیشن کے لیے تفصیلی گورننس قواعد بیان نہیں کیے گئے، اس لیے ان پہلوؤں پر مزید سرکاری وضاحت اہم ہوگی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مطابق یہ نظام پولیس مانیٹرنگ مضبوط کرنے اور بدعنوانی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ منصوبے کی عملی کامیابی کا انحصار کیمروں کے مسلسل استعمال، ڈیٹا کے محفوظ انتظام، واضح احتسابی قواعد، اہلکاروں کی تربیت اور شہری شکایات یا قانونی کارروائی میں ریکارڈنگ کے قابلِ اعتماد استعمال پر ہوگا۔ لاہور میں ابتدائی نفاذ کے بعد 43 شہروں کے سیف سٹی نیٹ ورک سے انضمام صوبے میں پولیس ٹیکنالوجی کے استعمال کا نمایاں توسیعی مرحلہ ہوگا۔