اسلام آباد میں بدھ کو ’کوانٹم ویلی پاکستان‘ کے نام سے ایک نئے ٹیکنالوجی اور جدت طرازی پلیٹ فارم کا آغاز کیا گیا، جس کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال مہمانِ خصوصی تھے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں، کاروباری افراد، حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان ایسا رابطہ قائم کرنا ہے جس کے ذریعے علمی تحقیق کو عملی حل، نئے کاروباری تصورات کو قابلِ توسیع منصوبوں اور جدت کو قومی سطح کے اثرات میں تبدیل کیا جا سکے۔

منصوبے میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، فن ٹیک، زرعی ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی، طبی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل حل اور خودکار ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں پاکستانی ہنرمندوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وینچر کیپیٹل فرم پلگ اینڈ پلے اور کیمبرج انوویشن سینٹر نے حکومت کے ساتھ اس منصوبے میں تعاون کیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان مستقبل کے لیے ایک نیا راستہ متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ملک کو جدت طرازی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ ان کے مطابق اکیسویں صدی میں قومی ترقی کے پیمانے بدل چکے ہیں اور انسانی ذہانت، تحقیق اور ٹیکنالوجی معاشی ترقی کے اہم محرک بن گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی اداروں کے ساتھ یہ اشتراک پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے اور مقامی اسٹارٹ اپس کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ دفاعی یا سفارتی کامیابیوں کو پائیدار بنانے کے لیے مضبوط معیشت ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کے تحت 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کے اہداف کا بھی ذکر کیا۔ یہ اہداف حکومتی پالیسی مقاصد ہیں اور ان کا حصول مستقبل کی معاشی کارکردگی، سرمایہ کاری، اصلاحات اور عالمی حالات سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔

تقریب میں مقامی اسٹارٹ اپس کے لیے ’گلوبل وینچر ایکسلریشن پروگرام‘ کا بھی افتتاح کیا گیا۔ اعلان کے مطابق منتخب کاروباری منصوبوں کو 15 ہفتوں تک رہنمائی فراہم کی جائے گی، جبکہ دو ہفتوں کا عالمی تجرباتی مرحلہ سلیکون ویلی یا بوسٹن میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد پاکستانی کاروباری افراد کو عالمی نیٹ ورکس، سرمایہ کاری کے طریقہ کار اور جدید کاروباری ماحول سے جوڑنا ہے۔

کوانٹم ویلی پاکستان کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اعلان کردہ شراکت داریوں، تربیتی پروگراموں اور سرمایہ کاری کے رابطوں کو کس حد تک مستقل ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ فی الحال منصوبے کے آغاز کے موقع پر حکومت نے اسے پاکستان میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کے درمیان روابط بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔