اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے جاپانی کمپنیوں کو پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور ڈیولپمنٹ مراکز قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے ٹوکیو میں منعقدہ پاکستان بزنس سیمینار سے ورچوئل خطاب میں کہا کہ پاکستان اور جاپان کے دیرینہ تعلقات کا اگلا مرحلہ ڈیجیٹل اور تکنیکی تعاون سے تشکیل پا سکتا ہے۔
سیمینار جاپان ایکسٹرنل ٹریڈ آرگنائزیشن (جیٹرو) اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تعاون سے منعقد ہوا۔ تقریب میں دونوں ممالک کے سرکاری حکام، کاروباری رہنما، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے اور صنعت سے وابستہ شخصیات شریک ہوئیں۔ پاکستان اور جاپان کے سفارتی نمائندوں کے علاوہ پی ایس ای بی اور جیٹرو کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔
وزیر آئی ٹی نے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 161 ملین سے زیادہ ہے، فائبر آپٹک بیک بون تقریباً 17,200 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور رواں سال اگلی نسل کی کنیکٹیویٹی اور فائیو جی کی معاونت کے لیے 750 میگا ہرٹز سے زیادہ اسپیکٹرم جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کے پاس انجینئرنگ، معیار اور جدید ٹیکنالوجی کی مضبوط مہارت ہے، جبکہ پاکستان نوجوان آبادی، بڑی مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل افرادی قوت پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی 68 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور ہر سال 75 ہزار سے زیادہ آئی ٹی گریجویٹس اور سافٹ ویئر انجینئرز افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاپانی سرمایہ کاری کی دعوت ایسے وقت دی گئی ہے جب پاکستان آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات بڑھانے اور اعلیٰ قدر کی تکنیکی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آر اینڈ ڈی مراکز کی مقامی سطح پر موجودگی سے پاکستانی انجینئرز کو بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مصنوعات، سافٹ ویئر اور جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں، تاہم کسی مخصوص نئی جاپانی سرمایہ کاری یا منصوبے کی حتمی منظوری کا اعلان اس سیمینار میں نہیں کیا گیا۔
آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ دونوں ممالک کے سرکاری اور نجی ادارے سیمینار میں زیر بحث مواقع کو عملی سرمایہ کاری، شراکت داری اور تجارتی معاہدوں میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔
