اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمدی کاروباروں کی فنانسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں، بینکوں اور برآمد کنندگان کے ساتھ مشاورت تیز کر دی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے فنانس ڈویژن میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ایس ایم ایز کی برآمدات بڑھانے اور ایکسپورٹ فنانس تک رسائی میں حائل عملی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان نے فنانسنگ، ٹیکس اور ریگولیٹری تقاضوں، سرٹیفکیشن کی لاگت اور نئی گرین سرٹیفکیشن شرائط سے متعلق مسائل بیان کیے۔ حکومت نے حال ہی میں اعلان کردہ ایس ایم ای معاونتی اقدامات پر بھی کاروباری حلقوں سے رائے لی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ موجودہ سہولتیں چھوٹے برآمد کنندگان تک کس حد تک پہنچ رہی ہیں۔

بلال اظہر کیانی نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں شریک بینکوں کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے، اہلیت کی شرائط واضح انداز میں بتانے اور درخواستوں پر کارروائی کے لیے متعین ٹائم لائنز بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کی مؤثریت، چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس کے دائرے اور خطرے کو بانٹنے کے ممکنہ طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔

برآمدی لاگت اور مسابقت کے ضمن میں فریٹ کی دستیابی، شپنگ اخراجات اور پیداوار بڑھانے والی مشینری و ٹیکنالوجی تک رسائی بھی زیر بحث آئی۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے ان عوامل کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ محدود سرمایہ اور ضمانتوں کی کمی انہیں بڑے برآمد کنندگان کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مالی دباؤ میں رکھ سکتی ہے۔

وزیر مملکت نے متعلقہ اداروں کو چیمبرز اور برآمد کنندگان سے مزید مشاورت، اہم مسائل کی تحریری نشاندہی اور واضح ذمہ داریوں و مدت کے ساتھ ٹریکنگ نظام بنانے کی ہدایت کی۔ متعلقہ ادارے فنانسنگ، ضابطہ کاری، مارکیٹ رسائی، ڈیجیٹل سہولت، collateral arrangements اور ایکسپورٹ کریڈٹ سپورٹ کے آپشنز کا جائزہ لیں گے۔

اجلاس میں سیکریٹری تجارت، وزیراعظم آفس کے تجارتی مشیر، ایف بی آر اور صوبائی محکموں کے حکام سمیت ایس ایم ای برآمد کنندگان کے نمائندے شریک ہوئے۔ زیر بحث تجاویز کو ابھی حتمی پالیسی فیصلے نہیں سمجھا جا سکتا؛ عملی اثر اس وقت واضح ہوگا جب متعلقہ ادارے مخصوص اقدامات، اہلیت، مالی وسائل اور نفاذ کے طریقہ کار کا اعلان کریں گے۔