اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کینو اور دیگر ترش پھلوں کی برآمدات میں اضافے کے لیے پانچ سالہ جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کو یہ منصوبہ 15 روز میں تیار کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ برآمدی شعبے میں موجود لاجسٹک، مالی اور منڈی تک رسائی کی رکاوٹوں کے لیے عملی تجاویز سامنے لائی جا سکیں۔
متعلقہ حکومتی کمیٹی کے اجلاس میں کینو کے برآمد کنندگان کو درپیش مسائل، خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کی تیز تر نقل و حمل اور بین الاقوامی خریداروں تک بہتر رسائی کے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ زیر غور تجاویز میں سرگودھا سے کراچی اور کوئٹہ کے لیے ہفتہ وار ریفریجریٹڈ فریٹ ٹرین، سرحدی اور بندرگاہی مقامات پر تیز کسٹمز کلیئرنس اور ایران کے ساتھ سرحد کے راستے پھلوں کی باقاعدہ نقل و حمل شامل ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے پورٹ قاسم پر 60 فیصد ٹیرف رعایت سے متعلق ہدایت پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اس امر پر زور دیا کہ برآمدی لاگت میں کمی اور کولڈ چین کی بہتر سہولت کینو سمیت جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کے لیے اہم ہوگی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بتایا گیا کہ برآمدی رقوم کی وطن واپسی کے لیے زیادہ سے زیادہ 120 دن کی مدت لاگو ہے۔
کمیٹی نے برآمد کنندگان کے مالیاتی آلات سے متعلق مسائل کو نومبر کے وسط تک حل کرنے اور فلپائن اور روس سمیت اہم منڈیوں کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں پر کام کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ حکام کے مطابق وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان بہتر رابطہ برآمدی اہداف کے حصول کے لیے بنیادی شرط ہے۔
پاکستان دنیا میں کینو پیدا کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے، لیکن برآمدی قدر بڑھانے کے لیے معیار، پیکنگ، کولڈ اسٹوریج، ٹرانسپورٹ اور نئی منڈیوں تک رسائی جیسے عوامل اہم ہیں۔ پانچ سالہ روڈ میپ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے؛ اس لیے اس میں شامل حتمی اہداف، متوقع برآمدی آمدن اور مالی وسائل کی تفصیل منصوبہ مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگی۔ موجودہ فیصلہ فوری برآمدی اضافے کی ضمانت نہیں بلکہ پالیسی اور لاجسٹک اصلاحات کے لیے ایک مقررہ مدت میں حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت ہے۔
