اسلام آباد: حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی اور اس کے خلاف جاری احتجاجی مہم پر نئی بات چیت کا راستہ کھل گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کے مطابق دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس 23 اکتوبر کو ہونا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ملاقات بھی اسلام آباد میں شیڈول کی جا رہی ہے۔

یہ پیش رفت جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کے تیسرے مرحلے کے اعلان کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ ایندھن پر عائد لیوی سے شہریوں اور کاروبار پر مالی بوجھ بڑھا ہے اور حکومت کو اس میں کمی کے لیے عملی اقدام کرنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے رابطے کا مقصد احتجاجی مطالبات پر بات چیت اور ممکنہ حل تلاش کرنا بتایا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات اور احتجاج کا عمل بیک وقت جاری رہ سکتا ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات شروع ہونے کے باوجود جماعت اسلامی نے فوری طور پر اپنی احتجاجی سرگرمیاں ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ دوسری جانب حکومتی نمائندے پہلے بھی معاشی فیصلوں کو مالی ضروریات، بجٹ اہداف اور عالمی مالیاتی ذمہ داریوں کے تناظر میں بیان کرتے رہے ہیں۔

پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے اہم محصولات میں شامل ہے اور اس میں کسی بڑی تبدیلی کے اثرات سرکاری آمدن اور مالی اہداف پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے مذاکرات میں صرف سیاسی مطالبات نہیں بلکہ مالی گنجائش اور ممکنہ متبادل اقدامات بھی اہم ہوں گے۔ کسی رعایت، شرح میں تبدیلی یا مرحلہ وار فیصلے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

آئندہ اجلاس میں دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کریں گے۔ وزیراعظم اور حافظ نعیم الرحمن کی مجوزہ ملاقات اگر طے شدہ انداز میں ہوتی ہے تو اس سے مذاکرات کو اعلیٰ سیاسی سطح پر آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ حتمی نتیجہ بات چیت اور حکومت کے باضابطہ فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔