اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا اور فریقین نے اسے تعطل قرار دیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہفتے کی شام شروع ہونے والی بات چیت کئی گھنٹے جاری رہی اور اتوار 4 اکتوبر کی علی الصبح ختم ہوئی۔ مذاکرات میں پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ سمیت متعدد سیاسی و سکیورٹی امور زیر بحث آئے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی اور تعطل برقرار ہے۔ ان کے مطابق اختلافات میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ان کے ذاتی معالجین کی ملاقات اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق نکات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض امور معمولی نوعیت کے تھے، تاہم ان پر اتفاق نہ ہوسکا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی رکاوٹ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں مستقبل کے تعاون سے متعلق واضح یقین دہانی نہ کرانا تھی۔ ان کے مطابق دیگر کئی معاملات پر اتفاق ہوچکا تھا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان، جو حکومتی وفد کا حصہ تھیں، نے کہا کہ زیر بحث مسودے میں متعدد مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، تاہم انہوں نے تفصیلات جاری نہیں کیں۔

پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی کا 4 اکتوبر کا لانگ مارچ برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں سمیت چند مطالبات پیش کیے گئے تھے، جبکہ دہشت گردی سے متعلق بعض نکات پر مذاکرات رک گئے۔ فریقین آئندہ مذاکرات کی تاریخ پر بھی متفق نہ ہوسکے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بعد ازاں کہا کہ حکومت کے لیے دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبوں کے تعاون کا معاملہ غیرمذاکراتی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مسودہ دو یا تین مرتبہ تبدیل کیا، مگر خیبرپختونخوا حکومت کے کردار کے حوالے سے اختلاف برقرار رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان سے ملاقات اور علاج سے متعلق معاملات قانون اور جیل قواعد کے مطابق دیکھے جائیں گے اور اگر اپوزیشن انسدادِ دہشت گردی تعاون پر تیار ہو تو مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہیں۔

مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوئے۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزرا، وزیراعظم کے مشیر اور پیپلز پارٹی کے نمائندے شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی تناؤ برقرار ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت اسلام آباد میں نظم و نسق اور سکیورٹی کو ترجیح دے رہی ہے اور دوسری طرف پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو سیاسی و آئینی حق قرار دیتے ہوئے مارچ پر قائم ہے۔