اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان قومی اسمبلی کے اسپیکر چیمبر میں مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے وفد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور دیگر نمائندے شریک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ بھی دی۔ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب اپنا احتجاجی مارچ 27 ستمبر سے مؤخر کر کے 4 اکتوبر کے لیے مقرر کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کے مطالبات میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور آئینی بالادستی شامل ہیں۔ یہ سیاسی مطالبات پی ٹی آئی کا مؤقف ہیں اور ان سے متعلق عدالتی یا حکومتی معاملات اپنی متعلقہ قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے تابع ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اسپیکر چیمبر میں ہونے والی ملاقات میں شرکت نہیں کی۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ مذاکرات میں اس صورت شریک ہوں گے جب ملاقات کسی غیر جانبدار مقام پر رکھی جائے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے مذاکراتی وفد کی تشکیل نو کی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ پارٹی کی سیاسی اور کور کمیٹیوں نے وفد کے ناموں کی منظوری دی ہے۔

مذاکرات سے قبل رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی سے مارچ کی کال واپس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ ایسے معاملات جنہیں بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے انہیں مذاکرات کی میز پر زیر بحث لایا جانا چاہیے، جبکہ عدالتوں میں زیر سماعت امور کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے مقام پر پیدا ہونے والے اختلاف کو بھی غیر ضروری قرار دیا۔

یہ رابطہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں اہم پیش رفت ہے، تاہم ملاقات کے آغاز تک کسی حتمی معاہدے، مارچ کی منسوخی یا مطالبات پر اتفاق کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ مذاکرات کے نتائج کا تعین فریقین کی باضابطہ اعلانات اور آئندہ اقدامات سے ہوگا۔