اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ’فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) رولز 2026‘ جاری کر دیے ہیں، جن کے ذریعے عدالت میں درخواستوں، اپیلوں، نظرثانی، توہین عدالت، حبس بے جا اور دیگر کارروائیوں کے طریقہ کار کو باقاعدہ شکل دی گئی ہے۔ ڈان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق قواعد آئین کے متعلقہ اختیار کے تحت عدالت کی پریکٹس اور پروسیجر کو منظم کرنے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔
قواعد میں بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق اصل دائرہ اختیار کے لیے الگ طریقہ کار دیا گیا ہے۔ حبس بے جا کی ایسی درخواست جو مقررہ شرائط پوری کرتی ہو اور جس میں زیر حراست شخص کے حلف نامے سمیت متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تفصیل موجود ہو، اسے جلد از جلد اور کسی بھی صورت فائلنگ کے سات دن کے اندر سماعت کے لیے مقرر کرنے کی شق شامل ہے۔ عدالتی نوٹس اور سماعت کے درمیان مقررہ مدت اور ریکارڈ طلب کرنے کے اختیار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت وفاقی آئینی عدالت کسی معاملے میں متعلقہ اتھارٹی سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے تاکہ زیر غور اقدام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت کارروائی کے دوران اخراجات عائد کرنے یا مناسب ضمانت طلب کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ بنیادی حقوق سے متعلق درخواستوں کو جلد نمٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، اگرچہ کسی مخصوص کیس کے فیصلے کی مدت اس کی نوعیت اور عدالتی کارروائی پر منحصر ہوگی۔
توہین عدالت سے متعلق حصے میں عدالت کو ازخود نوٹس لینے یا درخواست پر کارروائی کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ قواعد میں ایسی تحریر، تقریر یا عمل کا ذکر ہے جو کسی زیر سماعت مقدمے کو متاثر کرے، عدالت یا جج کو بدنام کرنے کی کوشش کرے یا عدالتی وقار کو نقصان پہنچانے کے زمرے میں آئے۔ ہر معاملے میں اطلاق مخصوص حقائق، آئینی تحفظات اور عدالتی تشریح کے مطابق ہوگا۔
نظرثانی درخواستوں کے بارے میں قواعد کہتے ہیں کہ بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست دائر کرنے والے فریق پر کم از کم 25 ہزار روپے تک اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ رجسٹرار کو قواعد کے مطابق نہ ہونے والی یا قابل اعتراض نوعیت کی درخواست وصول کرنے سے انکار کا اختیار دیا گیا ہے، تاہم ایسے فیصلے کے خلاف مقررہ مدت میں جج اِن چیمبر سے رجوع کیا جا سکے گا۔
قواعد میں سزائے موت کے مقدمات، اپیلوں، التوا، وکلا کے اندراج اور عمومی عدالتی کارروائی سے متعلق انتظامی شقیں بھی شامل ہیں۔ ان قواعد کا عملی اثر آنے والے مقدمات میں اس وقت زیادہ واضح ہوگا جب عدالت مختلف اقسام کی درخواستوں پر انہیں نافذ کرے گی اور طریقہ کار سے متعلق عدالتی تشریحات سامنے آئیں گی۔
