اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور جمعہ 2 اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں مکمل ہوگیا۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی اور شرکا نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات کے اختتام پر طے پایا کہ بات چیت کا دوسرا دور ہفتہ 3 اکتوبر کو دوپہر دو بجے اسپیکر چیمبر میں ہوگا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں اپوزیشن 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے دور کے بعد دونوں جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق سامنے آیا اور اپوزیشن کی جانب سے اپنے مطالبات اگلی نشست میں باضابطہ طور پر پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات میں مجوزہ احتجاج اور اس سے متعلق انتظامی و سکیورٹی معاملات نمایاں ہیں۔

اس سے قبل حکومتی حلقوں میں خیبر پختونخوا کی صورتحال اور ممکنہ سخت انتظامی اقدامات پر بھی بحث ہوئی تھی، تاہم مذاکرات کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین نے فوری مرحلے پر سیاسی رابطے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سرکاری بیان میں کسی حتمی معاہدے، مطالبات کی منظوری یا احتجاج کی منسوخی کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے پہلے دور کو کسی نتیجہ خیز تصفیے کے بجائے جاری مذاکراتی عمل کا ابتدائی مرحلہ سمجھا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ اجلاس میں مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ ڈان کے مطابق مذاکرات کا پس منظر پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے احتجاج سے جڑا ہوا ہے۔ اگلی نشست کی اہمیت اس لیے زیادہ ہوگی کہ اس میں اپوزیشن کے مطالبات سامنے آنے اور حکومت کے ردعمل کی سمت واضح ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت یہی ہے کہ پہلا دور مکمل ہوچکا ہے اور فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔