قصور: پاکستان کے سرکاری ریڈیو نے 2 اکتوبر کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان بھارت بین الاقوامی سرحد کے قریب قصور میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق لادھر گاؤں کے تین مقامی رہائشی ایک سرحدی ستون سے چند قدم آگے گئے تھے جب ان پر مبینہ طور پر بغیر تنبیہ فائرنگ کی گئی۔

سرکاری ذرائع نے جاں بحق افراد کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے کی، جو جٹاں والی حویلی، لادھر کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تینوں افراد غیر مسلح تھے اور انہوں نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے واقعے کو پاکستان بھارت بین الاقوامی سرحد سے متعلق معاہدوں اور معیاری طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ڈان نے بھی ریڈیو پاکستان کی رپورٹ نقل کرتے ہوئے یہی تفصیلات شائع کیں۔ تاہم واقعے کے بارے میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کا براہ راست سرکاری بیان دستیاب رپورٹوں میں شامل نہیں تھا۔ پاکستانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ بھارتی میڈیا کے بعض حصوں نے متاثرہ افراد کو مبینہ درانداز قرار دیا، لیکن اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے واقعے کی نوعیت، متاثرہ افراد کی نقل و حرکت اور فائرنگ کے حالات سے متعلق تفصیلات کو متعلقہ فریقوں کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کی سرحد پر فائرنگ کا کوئی بھی واقعہ دونوں ممالک کے درمیان حساس سکیورٹی معاملہ بن سکتا ہے، خصوصاً جب شہری ہلاکتوں کے دعوے سامنے آئیں۔ اس واقعے میں پاکستانی حکام نے دو ہلاکتوں اور ایک زخمی کی تصدیق سرکاری میڈیا کے ذریعے کی ہے۔ زخمی شخص کی شناخت اور طبی حالت کی تفصیل فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

مزید سفارتی یا سرحدی سطح کے ردعمل، مشترکہ تحقیقات یا بھارتی حکام کی وضاحت سامنے آنے کی صورت میں واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ فی الحال دستیاب مصدقہ پاکستانی سرکاری اطلاع یہی ہے کہ قصور کے لادھر علاقے کے تین شہری فائرنگ کی زد میں آئے، دو جان سے گئے اور ایک زخمی ہوا۔