اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 2 اکتوبر کو بتایا کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 سے تعلق رکھنے والے چار پاکستانی عملے کے ارکان کو محفوظ طور پر نکال لیا گیا ہے اور انہیں ہفتہ 3 اکتوبر کو کراچی پہنچنا ہے۔ ڈان کے مطابق محفوظ نکالے گئے پاکستانیوں میں یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی شامل ہیں۔ ڈار نے اس پیش رفت کو وزارت خارجہ اور جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیر خارجہ کے مطابق واقعے میں جان سے جانے والے تین پاکستانی عملے کے ارکان رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کی میتیں بھی پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں اور متعلقہ قانونی و دیگر کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین بدستور جہاز پر کپتان کے ساتھ موجود ہیں اور ان کے محفوظ انخلا کے لیے دوست ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے ہائی جیک کیا تھا۔ بعد میں پنٹ لینڈ کی فورسز نے جہاز کی بازیابی کے لیے کارروائی کی۔ وزارت خارجہ نے یکم اکتوبر کی بریفنگ میں تصدیق کی تھی کہ بازیابی کی کارروائی کے دوران پانچ عملے کے ارکان جان سے گئے، جن میں تین پاکستانی تھے، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔ پاکستانی حکام نے اس وقت کہا تھا کہ وہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
تازہ اعلان اس طویل بحران میں ایک اہم عملی پیش رفت ہے، تاہم معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ تین پاکستانی اب بھی جہاز پر موجود ہیں اور جاں بحق افراد کی میتوں کی وطن واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام نے باقی پاکستانی شہریوں کی واپسی کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے اس مرحلے پر مصدقہ صورتحال یہی ہے کہ چار پاکستانی محفوظ نکالے جا چکے ہیں اور ان کی کراچی آمد 3 اکتوبر کے لیے طے ہے، جبکہ باقی افراد کے انخلا کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
