راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس 2 اکتوبر کو ہوئی، جس میں ملک کی داخلی و علاقائی سکیورٹی صورتحال اور جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کو نقل کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان اور ڈان نے رپورٹ کیا کہ فورم نے اعلیٰ سطح کی عملی تیاری برقرار رکھنے اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
فوجی قیادت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عسکری اقدامات کے ساتھ غیر عسکری تدابیر بھی ضروری ہیں۔ بیان میں نچلی سطح پر عوامی ضروریات پر مبنی حکمرانی، عوام سے رابطہ، دہشت گردی اور جرائم کے مبینہ گٹھ جوڑ کو توڑنے اور پولیس کی صلاحیت بڑھانے کو نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔
فورم نے افغانستان سے دہشت گردی کے مبینہ خطرات کے بارے میں پاکستان کے حقِ دفاع اور ضرورت پڑنے پر ہدفی کارروائی کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں افغان طالبان قیادت پر دہشت گرد عناصر کی سہولت کاری کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ افغانستان کی جانب سے ایسے پاکستانی الزامات کی ماضی میں تردید کی جاتی رہی ہے، اس لیے ذمہ داری سے متعلق دعوے کو سرکاری موقف کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس نے داخلی استحکام پر بھی زور دیا اور کہا کہ 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کسی کوشش سے قانون کے مطابق فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان اسی روز مذاکرات کا پہلا دور بھی ہوا۔ فوجی بیان نے کسی مخصوص جماعت کا نام اس انتباہ کے متن میں نہیں لیا۔
فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی۔ کانفرنس میں کشمیر سے متعلق پاکستان کے روایتی مؤقف کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اختتامی کلمات میں عاصم منیر نے کمانڈرز کو جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور کثیرالجہتی جنگی صلاحیت کے ذریعے تیاری بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
