پشاور/اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے عیدک علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے سات دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور دیگر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز نے مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کارروائی عیدک میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق معلومات ملنے کے بعد کی گئی۔ رپورٹ میں ہلاک ہونے والوں کو ریاستی اصطلاح میں ’فتنہ الخوارج‘ سے منسلک قرار دیا گیا ہے، جو حکومت اور سکیورٹی ادارے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آزاد ذرائع سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور کارروائی کی تمام تفصیلات کی فوری طور پر الگ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے رپورٹ میں وہی معلومات شامل کی جا رہی ہیں جو سرکاری اور معتبر پاکستانی ذرائع نے جاری کی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کارروائی میں شریک سکیورٹی اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔ سرکاری بیانات میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور ریاست کا مقصد ملک میں دیرپا امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی آپریشن پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع حالیہ مہینوں میں مسلسل سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے آغاز میں صوبے کے مختلف علاقوں میں متعدد انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں، جن میں سکیورٹی اداروں نے کئی مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ اسی دوران پولیس اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

عیدک کی کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وفاقی اور صوبائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے اور متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی پر بحث جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بنیاد پر مخصوص کارروائیاں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے مسلح گروہوں کی نقل و حرکت اور ٹھکانوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔