اسلام آباد: وفاقی حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انکم ٹیکس سے متعلق واجبات کو بجلی کے صارفین کے ٹیرف میں پاس تھرو لاگت کے طور پر شامل کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ معاملہ پاور سیکٹر کی مالی ذمہ داریوں اور ریگولیٹڈ ٹیرف میں قابل قبول اخراجات کے تعین سے جڑا ہے اور اس کا حتمی اثر متعلقہ منظوری اور نیپرا کے ریگولیٹری عمل کے بعد ہی واضح ہوگا۔
بجلی کے ٹیرف میں پاس تھرو اخراجات سے مراد ایسی منظور شدہ لاگت ہوتی ہے جو تقسیم کار کمپنی خود جذب کرنے کے بجائے ریگولیٹری فارمولے کے تحت صارفین سے وصول کر سکتی ہے۔ موجودہ بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ڈسکوز کے انکم ٹیکس واجبات کو کمپنی کی اپنی ذمہ داری سمجھا جائے یا انہیں بجلی کی فراہمی کی قابل وصول لاگت کا حصہ قرار دیا جائے۔
اگر یہ ذمہ داری ٹیرف میں شامل کی جاتی ہے تو اس کے لیے نیپرا کے سامنے مالی اعداد و شمار، قانونی بنیاد اور قابل وصول رقم کا جائزہ اہم ہوگا۔ ریگولیٹر عام طور پر تقسیم کار کمپنیوں کے ریونیو ریکوائرمنٹ، آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات، توانائی خریداری کی لاگت، نقصانات اور دیگر منظور شدہ عناصر کو دیکھ کر ٹیرف کا تعین کرتا ہے۔ کسی نئے اخراجاتی عنصر کو شامل کرنے کے لیے بھی اسی نوعیت کی جانچ ضروری ہوگی۔
پاکستان کا بجلی شعبہ پہلے ہی گردشی قرض، بلند ترسیلی و تقسیمی نقصانات، کم ریکوری اور مختلف مالی واجبات کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈسکوز کی نجکاری یا انتظامی اصلاحات کے منصوبوں کے دوران کمپنیوں کی بیلنس شیٹس، ٹیکس ذمہ داریاں اور ماضی کے واجبات بھی اہم مسئلہ ہیں۔ ایسے میں ٹیکس لاگت کا حتمی بوجھ کس فریق پر ہوگا، اس کا تعلق شعبے کی مالی restructuring سے بھی بنتا ہے۔
صارفین کے نقطۂ نظر سے کسی اضافی پاس تھرو کا اثر بجلی کے بلوں پر پڑ سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی مخصوص فی یونٹ اضافے کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حقیقی اثر کا انحصار منظور شدہ رقم، اسے وصول کرنے کے دورانیے، صارفین کی مختلف کیٹیگریز اور نیپرا کے حتمی فیصلے پر ہوگا۔
یہ معاملہ فی الحال پالیسی اور ریگولیٹری غور کے مرحلے میں ہے، اس لیے اسے پہلے سے نافذ شدہ نیا بجلی ٹیکس نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حتمی صورت حال متعلقہ حکومتی فیصلوں، نیپرا کی کارروائی اور جاری ہونے والے باضابطہ ٹیرف نوٹیفکیشن سے طے ہوگی۔

