اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کے ایسے گھریلو صارفین کے لیے موجودہ سلیب نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جن کی ماہانہ کھپت 200 یونٹ کی محفوظ حد سے معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور انہیں اس کے نتیجے میں کئی ماہ تک زیادہ ٹیرف ادا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق حکومت اس چھ ماہ کی سزا نما مدت کو ختم کرنے اور ریلیف کی حد 250 یونٹ تک بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔

موجودہ نظام میں محفوظ یا پروٹیکٹڈ صارف کا درجہ بجلی کی کھپت کے مخصوص معیار سے منسلک ہے۔ 200 یونٹ کی حد عبور ہونے کی صورت میں صارف اگلے کئی ماہ تک زیادہ نرخوں والے زمرے میں جا سکتا ہے، خواہ بعد کے مہینوں میں اس کی کھپت دوبارہ کم ہو جائے۔ اس طریقہ کار پر طویل عرصے سے صارفین کی جانب سے اعتراض کیا جاتا رہا ہے کیونکہ چند اضافی یونٹس پورے گھرانے کے بل میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔

وزیر توانائی نے بتایا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے ایسا نظام تیار کرنا چاہتی ہے جس میں حد عبور کرنے کا اثر طویل مدت تک صارف پر مسلط نہ رہے۔ 250 یونٹ تک ریلیف کی مجوزہ توسیع متوسط اور کم آمدنی والے ان گھرانوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جن کی گرمیوں یا موسمی ضرورت کے باعث کھپت کبھی کبھار 200 یونٹ سے بڑھ جاتی ہے۔

تاہم مجوزہ تبدیلی کی حتمی تفصیلات، اطلاق کی تاریخ اور نئے ٹیرف کے مکمل مالی اثرات متعلقہ حکومتی منظوریوں اور نوٹیفکیشن سے واضح ہوں گے۔ اس مرحلے پر اسے نافذ شدہ نئے نرخ کے بجائے حکومتی پالیسی سمت اور زیر تیاری اصلاح کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ بجلی کے ٹیرف میں تبدیلیاں عام طور پر مالیاتی اثرات، سبسڈی، تقسیم کار کمپنیوں کی وصولیوں اور توانائی شعبے کے گردشی قرض کے اہداف سے بھی منسلک ہوتی ہیں۔

پاکستان میں بجلی کے نرخ حالیہ برسوں میں مہنگائی اور گھریلو بجٹ کا بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ سلیب نظام میں مجوزہ اصلاح کا مقصد بظاہر ایسے صارفین کو اچانک اور طویل مدتی بل جھٹکے سے بچانا ہے جو معمولی مقدار سے حد پار کرتے ہیں۔ اگر 250 یونٹ کی حد اور چھ ماہ کی پابندی کے خاتمے کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو اس کے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد، سرکاری سبسڈی کے بوجھ اور دیگر صارف زمروں پر ممکنہ اثرات بھی پالیسی کے مجموعی جائزے کا اہم حصہ ہوں گے۔