اسلام آباد: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے پیٹرول کی بلند قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کے بعد چھ رکنی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں وفد کی ملاقات کے دوران ہوا۔ کمیٹی میں حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے۔
سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ وسیع کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے گی تاکہ زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار کم کرنے کے قابل عمل آپشنز بھی تیار کیے جائیں گے، جنہیں آئندہ بجٹ کے تناظر میں زیر غور لایا جا سکے گا۔ حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
وزیراعظم نے ملاقات میں تسلیم کیا کہ بلند پیٹرولیم قیمتوں نے عوام، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات، پر مالی دباؤ بڑھایا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مالی گنجائش کے اندر ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ فیول ریلیف اسکیم کے لیے ایک کروڑ 26 لاکھ کے قریب افراد رجسٹر ہو چکے ہیں، اگرچہ بعد میں حکومتی نمائندوں کی جانب سے مستفید افراد کے اعداد میں معمولی فرق بھی بیان کیا گیا۔
دوسری جانب حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم مذاکرات کے ساتھ جاری رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وسط نومبر تک قابل ذکر ریلیف نہ ملا تو اسلام آباد کی جانب مارچ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ یہ جماعت اسلامی کا سیاسی مطالبہ اور اعلان ہے، جبکہ حکومت نے فوری مکمل خاتمے کے بجائے مرحلہ وار کمی کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔
پیٹرولیم لیوی وفاقی محصولات کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس میں بڑی کمی یا خاتمے کا فیصلہ بجٹ اور سرکاری آمدن پر اثر ڈال سکتا ہے۔ موجودہ اتفاق رائے کسی حتمی شرح، کمی کی مقدار یا نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں بلکہ تجاویز تیار کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار ہے۔ کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ حکومت فیول ریلیف اسکیم اور لیوی کے معاملے میں عملی طور پر کیا تبدیلی کرتی ہے۔
