اسلام آباد: حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں مکمل ہو گیا۔ ڈان، جیو نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی نے کی اور دونوں جانب کے نمائندوں نے آئندہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس کی سیاسی اور قانونی شکایات پر پیش رفت ہونی چاہیے، جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں نے دارالحکومت میں ممکنہ تصادم اور امن و امان سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد فریقین نے مکمل تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کیں، اس لیے کسی مخصوص مطالبے یا رعایت کو حتمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے معاون رانا ثنااللہ اور اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بعض رہنماؤں کی شرکت یا عدم شرکت سے متعلق بھی مختلف سیاسی بیانات سامنے آئے، تاہم مذاکرات کی مرکزی نشست حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان ہوئی۔
فریقین نے 3 اکتوبر کو دوسرے دور کی ملاقات پر اتفاق کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی الگ رپورٹ میں اپوزیشن اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ بات چیت کی تفصیلات خفیہ رکھنے کی مفاہمت تھی، جبکہ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے لانگ مارچ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ دونوں سیاسی فریقوں کے بیانات ہیں اور انہیں مذاکرات کے حتمی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ مرحلے پر سب سے قابل تصدیق پیش رفت یہی ہے کہ باضابطہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، پہلا دور مکمل ہوا اور اگلی نشست طے کی گئی۔ پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا مجوزہ مارچ مذاکرات کے دوران بھی مرکزی سیاسی مسئلہ رہا، جبکہ کسی حتمی معاہدے، احتجاج کی منسوخی یا اہم سیاسی مطالبات کی منظوری کا اعلان پہلے دور کے اختتام تک سامنے نہیں آیا تھا۔
