اسلام آباد: سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ریڈیو پاکستان نے 3 اکتوبر کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آپریشن کے دوران مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
سرکاری رپورٹ میں ہلاک افراد کے لیے ”فتنہ الخوارج“ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ یہ ایک ریاستی اصطلاح ہے جو پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک دہشت گرد عناصر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم دستیاب خبر میں ہلاک افراد کی انفرادی شناخت، ان کے عہدوں یا کسی مخصوص حملے سے مبینہ تعلق کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے اس رپورٹ میں ان دعوؤں سے آگے کوئی نسبت نہیں دی جا رہی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ کارروائی خیبر پختونخوا میں جاری انسداد دہشت گردی اقدامات کا حصہ تھی اور اسے ”عزمِ استحکام“ کے تناظر میں بیان کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی نوعیت کی کارروائیاں شمالی وزیرستان سمیت دیگر اضلاع میں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، تاہم ہر واقعے کی تفصیل اور ہلاکتوں کی تعداد الگ الگ سرکاری بیانات سے سامنے آتی ہے۔
اس آپریشن کے بارے میں فوری طور پر کسی آزاد زمینی ذریعے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد یا شناخت کی علیحدہ تصدیق دستیاب نہیں تھی۔ خبر کا بنیادی ماخذ سرکاری نشریاتی ادارہ ہے، جس نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیا ہے۔ اس لیے کارروائی کے نتائج کو انہی ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
جنوبی وزیرستان طویل عرصے سے دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے متاثر علاقوں میں شامل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریاستی اداروں نے سرحدی اور قبائلی اضلاع میں شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں پر زور دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقصد دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا اور پائیدار امن قائم کرنا ہے، جبکہ علاقے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں مختلف اوقات میں حملوں، جھڑپوں اور فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔

