ایتھنز: یونان نے اپنے فضائی دفاع اور لڑاکا طیاروں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے امریکہ سے دفاعی سازوسامان خریدنے اور طیارے جدید بنانے کی مد میں چار ارب ڈالر تک خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے آٹھ اکتوبر 2026 کو یونان کی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے دو اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ خبر ایک روز قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایتھنز کے دورے کے بعد سامنے آئی ہے۔
یونانی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق پیکیج میں ایف 16 وائپر اور ایف 35 لڑاکا طیاروں کے لیے جدید میزائل اور بم، بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے لیے سامان اور پرانے ایف 16 طیاروں کو وائپر معیار پر اپ گریڈ کرنے کا کام شامل ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ زیادہ تر خریداری پہلے ہی حکومت کے کثیر سالہ دفاعی منصوبے کا حصہ ہے، اس لیے حکومتی مالیات پر اضافی دباؤ نہیں پڑنا چاہیے۔ وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اس کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ادائیگی کا بوجھ کئی سال میں تقسیم کیا جائے گا۔
روئٹرز کے مطابق یونان 2036 تک تقریباً 28 ارب یورو دفاعی جدید کاری کے لیے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے۔ ان منصوبوں میں امریکی ایف 35 طیارے اور ہیلی کاپٹر حاصل کرنا اور اسرائیلی ساختہ ہتھیاروں کے ساتھ کئی تہوں پر مشتمل فضائی و میزائل دفاعی نظام قائم کرنا شامل ہے۔ یونان نے 2024 میں 20 ایف 35 لڑاکا طیارے اور 35 سِکورسکی یو ایچ 60 ایم بلیک ہاک ہیلی کاپٹر خریدنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
ملک تقریباً 82 ایف 16 لڑاکا طیاروں کو وائپر معیار پر اپ گریڈ کر رہا ہے اور مزید 37 بلاک 50 طیاروں کی اسی معیار پر اپ گریڈیشن چاہتا ہے، جس کی لاگت کا اندازہ تقریباً ایک ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ یہ تفصیلات بتاتی ہیں کہ نئی اطلاع دفاعی اخراجات کے ایک وسیع اور پہلے سے جاری منصوبے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
مارکو روبیو نے ایتھنز میں کہا تھا کہ دونوں نیٹو اتحادیوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین اطلاعات کے تبادلے سے متعلق مشترکہ سلامتی منصوبے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دفاعی پیکیج کے بارے میں سامنے آنے والی خبر روئٹرز کے نام ظاہر نہ کیے گئے اعلیٰ ذرائع پر مبنی ہے؛ اس لیے اسے تمام خریداریوں کی تکمیل یا ہتھیاروں کی حوالگی کی تصدیق کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
یونان مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ساڑھے تین فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ دفاعی جدید کاری ملک کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، لیکن اصل اخراجات اور منصوبوں کے عملی مراحل متعلقہ معاہدوں اور آئندہ بجٹ فیصلوں سے طے ہوں گے۔

