ڈاکار: مغربی افریقی ملک گنی بساؤ کی عبوری حکومت نے چھ دسمبر 2026 کو طے شدہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق آٹھ اکتوبر کو ملک کے وزیر اعظم الیڈیو ویئرا تے نے صحافیوں کو بتایا کہ مقررہ تاریخ پر ووٹنگ کے لیے ضروری حالات موجود نہیں۔ وزیر اعظم نے انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، اس لیے فی الحال ووٹنگ کے آئندہ شیڈول کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
وزیر اعظم کے مطابق سیاسی جماعتوں نے اپنی قیادت کے انتخاب کے لیے درکار جماعتی اجلاس منعقد نہیں کیے، جبکہ انتخاب لڑنے کے خواہش مند امیدوار چھ اکتوبر کی آخری تاریخ تک سپریم کورٹ میں متعلقہ درخواستیں جمع نہیں کرا سکے۔ انہوں نے انہی عملی رکاوٹوں کو چھ دسمبر کے انتخابات ملتوی ہونے کی وجہ بتایا۔ ان کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ووٹنگ کے انعقاد کے لیے جماعتوں کی تیاری اور قانونی مراحل ابھی مکمل نہیں ہوئے۔
گنی بساؤ میں یہ فیصلہ گزشتہ سال کی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ نومبر 2025 میں صدارتی انتخابات کے دوران فوجیوں نے نتائج کے اعلان سے پہلے سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اسی واقعے کے بعد ملک میں عبوری سیاسی انتظام وجود میں آیا۔ اگست 2026 میں ووٹروں نے ایک نئے آئین کی منظوری دی تھی، جس کے تحت صدر کے اختیارات میں اضافہ ہوا۔ یہ دونوں واقعات موجودہ انتخابی عمل کے سیاسی اور آئینی پس منظر کو سمجھنے میں اہم ہیں۔
روئٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے حکام نے سابق صدر عمرو سیسو ایمبالو کو قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک واپس آنے سے روک دیا تھا۔ ان کا ارادہ واپس آ کر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا تھا۔ حکومت کا اس سلسلے میں مؤقف ایک سرکاری دعویٰ ہے، جبکہ اس فیصلے کے مخالف سیاسی حلقوں کی تشویش بھی ملک کے انتخابی ماحول میں موجود ہے۔
سول سوسائٹی کے کارکنوں نے عبوری حکومت پر سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے خوف کا ماحول پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے ایک سیاسی تحریک کے بانی ویگاریو لوئس بالانتا کے تاحال حل نہ ہونے والے قتل کا حوالہ بھی دیا۔ حکومت نے اس قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ان متنازع دعوؤں کو ثابت شدہ نتائج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
انتخابات کے التوا سے ملک کی آئندہ سیاسی سمت اور اقتدار کی منتقلی کے وقت کے بارے میں بے یقینی برقرار رہے گی۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ حکومت نئی تاریخ کب مقرر کرتی ہے اور سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کا کیا موقع ملتا ہے۔

