گوجرانوالا: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گوجرانوالا ریجنل پاسپورٹ آفس کے اچانک دورے کے دوران دفتر کی صورت حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پورے عملے کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق دورے کے وقت پاسپورٹ آفس مقررہ وقت سے پہلے بند پایا گیا، بیشتر عملہ موجود نہیں تھا اور شہریوں کو دفتر کے باہر سے واپس بھیجے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سہ پہر چار بجے دفتر میں صفائی جاری تھی اور معمول کی عوامی خدمات بند ہونے کا منظر تھا، جبکہ سرکاری وقت ساڑھے چار بجے تک بتایا گیا۔ وزیر داخلہ نے موجود واحد اہلکار سے پوچھا کہ مقررہ وقت سے پہلے دروازے کیوں بند کیے گئے، تاہم رپورٹ کے مطابق انہیں تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔ اس کے بعد انہوں نے تمام عملے کو عہدوں سے ہٹانے اور فرائض میں مبینہ غفلت پر تادیبی کارروائی کی ہدایت کی۔
محسن نقوی سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ شہری خدمات کی فراہمی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی خدمت پر مامور عملے کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ یہ انتظامی حکم ایک اچانک معائنے کے مشاہدات اور موقع پر سامنے آنے والی شکایات کے بعد دیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں ہر اہلکار کے خلاف الگ الزام، محکمانہ تحقیق کا نتیجہ یا حتمی سزا بیان نہیں کی گئی، اس لیے عہدوں سے ہٹانے کے حکم اور ممکنہ تادیبی کارروائی کو حتمی انفرادی جرم یا سزا کے طور پر نہیں لکھا جاسکتا۔
وزیر داخلہ نے گوجرانوالا کے چوبیس گھنٹے فعال میگا نادرا سینٹر کا بھی دورہ کیا اور وہاں پاسپورٹ آفس کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے شہریوں کی رہنمائی، معلومات کی فراہمی اور موقع پر شکایات کے ازالے کی ہدایت دی۔ اس نئی سہولت کے آغاز کی حتمی تاریخ، روزانہ درخواستوں کی گنجائش یا عملے کی تعداد رپورٹ میں نہیں دی گئی۔
اسی دورے کے دوران وزیر داخلہ نے ایف آئی اے زونل آفس لاہور میں ایک اجلاس کی صدارت کی، اپ گریڈیشن منصوبے کا جائزہ لیا اور انسانی اسمگلنگ و حوالہ ہنڈی میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن کاؤنٹرز کے پرانے کیمرے تبدیل کرنے اور شکایات کے اندراج کے لیے پاک آئی ڈی ایپ کی خدمات لینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔
یہ خبر ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی تفصیلی رپورٹ پر مبنی ہے۔ انتظامی حکم، موقع کے مشاہدات اور حکام سے منسوب بیانات کو اسی نسبت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے؛ کسی اہلکار کے خلاف غیر رپورٹ شدہ الزام یا محکمانہ نتیجہ شامل نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




