وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت 27 ستمبر کو اتنی بڑی تعداد میں اسلام آباد جائے گی کہ، ان کے بقول، حکام گولی چلانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ ایکسپریس اردو کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ ایک سیاسی بیان اور آئندہ احتجاج سے متعلق دعویٰ ہے؛ مارچ میں شرکت کی اصل تعداد یا انتظامی ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا۔

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں کے فیصلوں پر عمل نہیں ہوگا تو عوام اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اس بیان کو کسی عدالتی نتیجے یا سرکاری فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کے سیاسی مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایکسپریس کی رپورٹ میں وفاقی حکومت یا متعلقہ اداروں کا فوری جواب شامل نہیں تھا۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 90 دن میں منصوبے مکمل کرنے کا وعدہ پورا کیا گیا اور جمیل چوک کا منصوبہ بھی مقررہ مدت سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے تقریباً 200 ارب روپے کے منصوبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ سال کو امن، ترقی اور خوش حالی کا سال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان منصوبوں کی انفرادی پیش رفت اور مالی تفصیل اس تقریر سے الگ سرکاری دستاویزات میں جانچی جائے گی۔

محصولات اور بجٹ سے متعلق گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ 295 ارب روپے سے کم ہو کر 235 ارب روپے ہوا، جبکہ 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے کی وصولی کی گئی۔ انہوں نے اگلے مالی سال میں 200 ارب روپے کے ریونیو کا ہدف بھی بیان کیا۔ یہ اعداد وزیراعلیٰ کے خطاب میں پیش کیے گئے؛ اردو ہیڈ لائنز نے انہیں حتمی آڈٹ شدہ نتائج قرار نہیں دیا اور بجٹ یا مالیاتی رپورٹ جاری ہونے پر ان کا الگ جائزہ ضروری ہوگا۔

سہیل آفریدی نے وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں کے مینڈیٹ پر تنقید کی اور بدعنوانی، معاشی کارکردگی اور امن و امان کے بارے میں متعدد الزامات عائد کیے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے 5,300 ارب روپے کی بدعنوانی کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ایکسپریس کی خبر میں اس دعوے کی متعلقہ رپورٹ، تعریف یا آزاد تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔ اسی لیے اس عدد کو وزیراعلیٰ کے منسوب دعوے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے، ثابت شدہ مالی نتیجہ نہیں۔

27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ نیا اعلان نہیں ہے۔ ڈان نے 23 اگست کو رپورٹ کیا تھا کہ سہیل آفریدی نے ہنگو میں خطاب کرتے ہوئے تاریخ کو حتمی قرار دیا اور کارکنوں سے تیاری کی اپیل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں بھی 13 اگست کو ضلع خیبر سے مارچ کے لیے اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے اور عمران خان کی رہائی و یکساں انصاف کو اس کے مقاصد میں شامل کرنے کا بیان موجود ہے۔ تازہ تقریر کی خبر اس پہلے سے جاری سیاسی مہم میں وزیراعلیٰ کے نئے الفاظ اور صوبائی کارکردگی کے دعوے شامل کرتی ہے۔

اسلام آباد میں کسی بھی بڑے سیاسی اجتماع کے لیے روٹ، اجازت، سکیورٹی، ٹریفک اور ہنگامی انتظامات اہم ہوں گے۔ تاحال اس تازہ بیان میں حتمی مقام، روانگی کے راستوں، شرکاء کی تصدیق شدہ تعداد یا انتظامیہ کے باضابطہ منصوبے کی تفصیل نہیں دی گئی۔ شہری سفر یا شرکت کا فیصلہ کرتے وقت متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور جماعت کے مستند اعلانات دیکھیں؛ غیر مصدقہ سوشل میڈیا پیغامات کو حتمی شیڈول نہ سمجھیں۔