نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی، جس میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق حالیہ پیش رفت، علاقائی سلامتی اور پاکستان برطانیہ تعلقات کے مختلف پہلو زیر بحث آئے۔ ڈان کی 27 اگست کی رپورٹ نے دفتر خارجہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات وفود کی سطح پر ہوئی اور دونوں جانب نے باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی امور پر رابطہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور معاہداتی وعدوں کی پاس داری کو اہم قرار دیا۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ ملاقات کے بارے میں دستیاب رپورٹ میں بھارت کا نیا ردعمل شامل نہیں۔ اس لیے اس بیان کو کسی عدالتی فیصلے، مشترکہ پاکستانی برطانوی نتیجے یا تنازع کے حتمی تصفیے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ معاہدے پر دباؤ اس وقت بڑھا جب بھارت نے 2025 میں اپنی ذمہ داریاں معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ نئی دہلی نے اس واقعے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے الزام مسترد کرتے ہوئے غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ موجودہ ملاقات میں اس پس منظر پر گفتگو ضرور ہوئی، لیکن رپورٹ میں کسی نئے عملی انتظام، ثالثی کے فیصلے یا پانی کے بہاؤ سے متعلق فوری تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کے مکمل دائرے کا جائزہ لیا۔ دونوں جانب نے وزارت ہائے خارجہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے لیے ایک منظم طریقۂ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا، تاکہ تعاون کے مختلف شعبوں پر بات چیت اور پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جا سکے۔ بیان میں مسلسل اعلیٰ سطح رابطوں، باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی ہم آہنگی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال بھی زیر بحث آئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے میں پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا، جبکہ ایڈ ملی بینڈ نے مکالمے، سفارت کاری اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ یہ تعریف برطانوی وزیر خارجہ سے منسوب سرکاری بیان کا حصہ ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی نئے معاہدے، ضمانت یا مشترکہ امن منصوبے کی تفصیل موجود نہیں۔
اسحاق ڈار نے افغانستان کی سرزمین سے لاحق دہشت گردی کے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ دونوں جانب نے خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور تعاون آگے بڑھانے کے لیے مسلسل رابطے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ اس حصے میں بھی کسی مخصوص کارروائی، پابندی یا نئے سکیورٹی انتظام کا اعلان نہیں ہوا۔ ملاقات اسحاق ڈار کے برطانیہ کے چار روزہ سرکاری دورے کے دوران ہوئی، جو 28 اگست تک جاری رہنا تھا۔ اس دورے میں ان کی دیگر سفارتی مصروفیات بھی شامل رہی ہیں، تاہم اس خبر کا مصدقہ نتیجہ لندن میں ہونے والی بات چیت اور مستقبل کے ادارہ جاتی رابطے پر اتفاق تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




