اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین عام قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک موجود اہلِ خانہ سے ٹیلی فون پر بات کرانے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اپنے دلائل مکمل کیے، جس کے بعد عدالت نے فوری حکم جاری کرنے کے بجائے فیصلہ محفوظ کیا۔ اس مرحلے کو درخواستوں کی منظوری یا مسترد ہونے کا حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی مخالفت کی۔ پنجاب کے سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے طبی رپورٹ پڑھی اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ جیل قواعد و ضوابط کے تحت علاج کا طریقۂ کار موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں ممکن نہ ہو تو متعلقہ حالات اور طبی سفارشات کو دیکھتے ہوئے معاملہ زیر غور آسکتا ہے۔ یہ حکومت کے وکلا کے دلائل ہیں؛ محفوظ شدہ عدالتی فیصلے کے مندرجات ابھی سامنے نہیں آئے۔
جسٹس محمد آصف نے سماعت کے دوران قیدیوں کے علاج، سنگین بیماری کی صورت میں انسانی تقاضوں اور بیرونِ ملک اہلِ خانہ سے رابطے کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے استفسار کیا کہ کسی قیدی کے لیے خصوصی ڈاکٹر درکار ہو یا اس کی حالت انتہائی نازک ہو تو قانون اور طبی ضرورت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے گا۔ جج نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر قیدی کا پاکستان میں کوئی قریبی رشتہ دار موجود نہ ہو تو بیرونِ ملک خاندان سے گفتگو کی اجازت کے معاملے کو کس طرح دیکھا جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ حکومت کا یہ مؤقف نہیں کہ قیدی کا علاج نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 زندگی، وقار اور مساوات سے متعلق تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ جیل قواعد میں بیمار قیدی کے طبی معائنے اور علاج کا نظام موجود ہے۔ انہوں نے پمز کے طبی عملے اور جیل میڈیکل افسر کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ متعلقہ قیدیوں کا علاج پمز میں ممکن نہیں۔
یہ مقدمہ علاج تک رسائی، جیل انتظامیہ کی ذمہ داری، سرکاری اور نجی طبی سہولت کے انتخاب اور قیدیوں کے خاندانی رابطے جیسے الگ قانونی سوالات سامنے لاتا ہے۔ عدالتی ریمارکس سماعت کے دوران اٹھائے گئے سوالات ہیں اور انہیں حتمی قانونی حکم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب قابل تصدیق اگلی پیش رفت محفوظ فیصلہ سنایا جانا اور اس کے عملی دائرۂ کار کا واضح ہونا ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




