کراچی: پولیس نے گل پلازا کی مہلک آتشزدگی کے مقدمے میں تازہ چالان جنوبی ضلع کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جمع کرا دیا ہے۔ 3 ستمبر کی تاریخ والے اس تفتیشی دستاویز میں عمارت کی انتظامیہ اور متعلقہ افراد پر فائر سیفٹی کے ناکافی انتظامات اور مبینہ غفلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ چالان پولیس کا مؤقف ہے؛ ملزمان کی ذمہ داری یا بے گناہی عدالت میں شہادت، جرح اور قانونی سماعت کے بعد طے ہوگی۔
17 جنوری کی رات گل پلازا میں لگنے والی آگ تقریباً دو روز بعد مکمل طور پر بجھائی جا سکی تھی۔ معتبر رپورٹس کے مطابق سانحے میں کم از کم 73 افراد جاں بحق ہوئے اور 1,100 سے زائد دکانیں تباہ ہوئیں۔ جولائی میں جمع کرایا گیا سابق چالان مجسٹریٹ نے نامکمل اور غیر تسلی بخش تفتیش کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد پولیس کو خامیاں دور کرکے نئی دستاویز پیش کرنے کی ہدایت ملی۔
تازہ چالان میں دکان کے مالک نعمت اللہ، گل پلازا ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا اور ایسوسی ایشن کے اراکین عمار اسماعیل اور محمد رمضان کو ٹرائل کے لیے بھیجے جانے والے ملزمان میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس نے 87 گواہوں کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر مواد کو تفتیش کا حصہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نامزدگی کو سزا یا ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا اور ہر ملزم کو دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔
پولیس چالان کے مطابق عمارت کے حجم کے مقابلے میں آگ بجھانے کے آلات ناکافی تھے اور بجلی بند ہونے کی صورت میں ہنگامی روشنی کا متبادل انتظام موجود نہیں تھا۔ دستاویز میں شکایت کنندہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آگ کے وقت صرف دو دروازے کھلے تھے، جبکہ تیسری منزل کے بعض آہنی دروازے تالہ بند ملے۔ چالان نے ان حالات کو لوگوں کے اخراج میں رکاوٹ اور انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی سے جوڑا ہے۔
چالان میں یہ بھی کہا گیا کہ انتظامیہ نے کے الیکٹرک سے بجلی منقطع کرائی، لیکن عمارت میں متبادل روشنی کا انتظام نہیں تھا۔ پولیس کے مطابق فائر سیفٹی سامان کی مقدار ناکافی پائی گئی اور اس کی مرمت یا دوبارہ فراہمی عمارت کی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی۔ فرانزک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ جانچے گئے مواد میں دھماکا خیز مادہ یا کسی قابل اشتعال مائع کے آثار نہیں ملے، البتہ جلنے کے بعد رہ جانے والے ذرات بعض اشیا میں پائے گئے۔
پولیس نے اپنے چالان میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے خلاف مجرمانہ غفلت کا قابل اعتماد ثبوت نہ ملنے کا مؤقف اختیار کیا اور ریسکیو عملے کی کوششوں، بشمول ایک فائر فائٹر کی موت، کا ذکر کیا۔ تاہم جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں عدالتی کمیشن نے اپنی الگ رپورٹ میں سانحے کو صوبائی اور بلدیاتی نظام کی وسیع تر ناکامی قرار دیا تھا اور متعدد اداروں کی قانونی و ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی نشاندہی کی تھی۔ پولیس چالان اور عدالتی کمیشن کے یہ دو دائرے ایک جیسے نہیں ہیں۔
کمیشن نے بند راستوں، تاریکی، حفاظتی نظام کی عدم موجودگی، غیر مؤثر معائنوں اور بکھرے ہوئے اختیار کو اموات بڑھنے کے عوامل میں شمار کیا، جبکہ عمارت کے عملی انتظام، مالکان، دکانداروں اور کاروباری منتظمین پر مادی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا۔ بعض سرکاری افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی یا برطرفی کی گئی، مگر محکمانہ سزا اور فوجداری ذمہ داری الگ قانونی تصورات ہیں۔
عدالت اب چالان، تفتیشی مواد اور پراسیکیوشن کے مؤقف کا جائزہ لے گی۔ عدالت اسے قبول کر سکتی ہے، مزید تفتیش کا حکم دے سکتی ہے یا قانونی خامیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اس مرحلے پر خبر کا تصدیق شدہ نتیجہ صرف یہ ہے کہ تازہ چالان جمع ہوا ہے؛ عمارت انتظامیہ یا کسی نامزد فرد کی مجرمانہ ذمہ داری ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔




