کراچی: پولیس نے گل پلازا آتش زدگی کے مقدمے میں جنوبی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے تازہ چالان جمع کرا دیا ہے۔ تفتیشی دستاویز میں عمارت کی انتظامیہ اور گل پلازا ٹریڈرز ایسوسی ایشن کو حفاظتی انتظامات میں مبینہ غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ چالان تفتیشی ادارے کا مؤقف ہے؛ اس میں درج الزامات عدالتی فیصلے یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہیں۔

پولیس کے مطابق مقدمہ چلانے کے لیے بھیجے گئے ملزمان میں تنویر پاستا کے علاوہ دکان دار نعمت اللہ، ایسوسی ایشن کے عہدیدار عمار اسماعیل اور محمد رمضان شامل ہیں۔ بعض ملزمان ضمانت پر ہیں، جبکہ رپورٹ میں ایک دوسرے نامزد شخص کے مفرور ہونے کا بھی ذکر کیا گیا۔ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی آگ، جانی نقصان، غفلت، نقصانِ املاک اور متعلقہ جرائم سے وابستہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔

چالان میں الزام لگایا گیا کہ عمارت کے حجم کے مطابق آگ بجھانے کے آلات ناکافی تھے، ہنگامی روشنی کا متبادل انتظام موجود نہیں تھا اور آگ کے وقت کئی راستوں یا لوہے کے دروازوں کے بند ہونے سے لوگوں کے اخراج میں دشواری ہوئی۔ پولیس نے یہ مؤقف بھی درج کیا کہ بجلی منقطع ہونے کے بعد متبادل روشنی نہ ہونے سے صورتِ حال مزید مشکل ہوئی۔ ان نکات کی حتمی قانونی حیثیت گواہوں، دستاویزات، دفاع کے مؤقف اور عدالتی جانچ کے بعد طے ہوگی۔

تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، یو ایس بی، این وی آر اور ڈی وی آر آلات سمیت مختلف شواہد قبضے میں لینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ چالان کے مطابق فرانزک جانچ میں معائنہ شدہ اشیا میں دھماکہ خیز مواد یا آتش گیر مائع کے آثار نہیں ملے، البتہ آگ کے بعد باقی رہ جانے والے ذرات کی نشاندہی ہوئی۔ یہ نتیجہ صرف جانچ کے لیے بھیجے گئے نمونوں سے متعلق ہے اور آگ کے مکمل سبب پر حتمی عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

پولیس چالان نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے خلاف فوجداری غفلت کا کافی ثبوت نہ ملنے کا مؤقف اختیار کیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق امدادی اداروں نے دستیاب وسائل کے ساتھ آگ بجھانے کی کوشش کی۔ تاہم اس نتیجے کو سندھ حکومت کے پہلے عدالتی کمیشن کی وسیع تر ادارہ جاتی تشخیص سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ کمیشن نے سانحے کو مسلسل بلدیاتی اور صوبائی نظاموں کی اجتماعی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حفاظتی قوانین، معائنوں اور نفاذ کے موجودہ ڈھانچے لوگوں کو مؤثر تحفظ دینے میں ناکام رہے۔

17 جنوری 2026 کی رات گل پلازا میں لگنے والی آگ کو مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً دو دن لگے اور ایک ہزار سے زیادہ دکانیں تباہ ہوئیں۔ تازہ چالان کے ساتھ 85 گواہوں کی فہرست پیش کیے جانے اور دستاویز میں 72 اموات درج ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ بعض دیگر معتبر رپورٹس ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 73 بتاتی ہیں۔ تعداد کے اس فرق کو آئندہ عدالتی ریکارڈ یا حتمی سرکاری فہرست سے واضح ہونا باقی ہے۔

اس سے پہلے جولائی میں پیش کیا گیا چالان عدالت نے تفتیش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ تازہ دستاویز اب استغاثہ کے مقدمے کی بنیاد فراہم کرے گی، مگر عدالت پہلے یہ دیکھے گی کہ شواہد اور قانونی دفعات ملزمان کو ٹرائل کے لیے بھیجنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ کسی بھی فرد یا ادارے کی حتمی ذمہ داری فیصلے اور ممکنہ اپیلوں کے بعد ہی متعین ہوگی۔