دبئی/تعز: خلیجی عرب ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں ہونے والا مجوزہ علاقائی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے خمیس مشیط فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب یمن میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز و سعودی تیل انفراسٹرکچر سے متعلق خدشات عالمی توانائی منڈی پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے خمیس مشیط میں فوجی اڈے کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا اور طیارہ ہینگرز، ریڈار، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو ہدف بنایا۔ ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط اور تین دیگر جنوبی شہروں میں مختصر ہنگامی الرٹس جاری کیے، جہاں پہلے بھی حوثی حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

حوثیوں نے تازہ کارروائی کو یمن میں سعودی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا۔ اسی دوران حوثی فورسز نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیز پیش قدمی کی اور باب المندب کے دہانے پر واقع جزیرے سمیت بعض اہم مقامات پر قبضے کے دعوے کیے۔ یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث ہزاروں شہریوں کی نقل مکانی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب عمان کو پیر کے روز ایران اور خلیجی ریاستوں کے نمائندوں کی میزبانی کرنا تھی، جہاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور ممکنہ انتظامات پر مذاکرات متوقع تھے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے اعلان کیا کہ اجلاس کو ’اتفاق رائے کے مفاد‘ میں ملتوی کیا گیا ہے۔ ایران نے کہا کہ تاخیر سعودی عرب کی درخواست پر ہوئی، تاہم اس دعوے کی سعودی جانب سے اسی رپورٹ میں آزاد تصدیق نہیں دی گئی۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ دنوں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی ایک حملے کے بعد متاثر ہوئی۔ ریاض نے اس حملے کا الزام عراق میں موجود ایران نواز جنگجوؤں پر عائد کیا تھا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ متبادل تیل راستہ طویل عرصے تک بند رہا تو عالمی رسد کا قابل ذکر حصہ متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والے اہم راستوں میں شامل ہے۔

تازہ کشیدگی کے دوران عالمی خام تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ خطے میں ایک طرف ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی، دوسری طرف یمن کی جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور سعودی توانائی تنصیبات کو لاحق خطرات نے تیل منڈی میں سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

صورتحال میں سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، لیکن عمانی اجلاس کی ملتوی ہونے والی نشست اور سعودی عرب پر نئے حملوں کے دعوے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور یمن کے محاذ ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی آئندہ معاہدے کے لیے خلیجی ریاستوں، ایران اور یمن کے تنازع سے متعلق فریقوں کے درمیان وسیع تر اعتماد سازی درکار ہوگی۔