کیف: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کی طرف سے عملی جواب آنے کی صورت میں جنگ کی شدت کم کرنے کے اقدامات کے لیے تیار ہے، جن میں اہم انفراسٹرکچر پر باہمی حملے روکنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے اہداف پر حملوں کو روکنے کے لیے ایک باہمی انتظام کی کوشش کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے اپنے روزانہ ویڈیو خطاب میں امریکی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر روس یوکرین کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے روکتا ہے اور کیف بھی جواباً ایسی کارروائیاں معطل کرتا ہے تو یہ کشیدگی کم کرنے کا پہلا قابل عمل قدم بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کسی یکطرفہ رعایت کے بجائے باہمی طرز عمل کی بنیاد پر ڈی اسکیلیشن کی حمایت کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ کیف اور ماسکو توانائی کے اہداف کو نشانہ نہ بنانے پر متفق ہوئے ہیں۔ ٹرمپ حالیہ عرصے میں روس-یوکرین جنگ کے توانائی منڈی پر اثرات پر بھی تشویش ظاہر کر چکے ہیں اور انہوں نے زیلنسکی سے روسی ڈیزل ریفائنریوں پر حملے نہ کرنے کا کہا تھا۔ تاہم یوکرینی صدر نے اپنے خطاب میں یہ تاثر دیا کہ کسی بھی مستقل پیش رفت کا انحصار روس کے عملی اور دیرپا رویے پر ہوگا۔
زیلنسکی کے مطابق یوکرین کے حملوں نے روس کی جنگی معیشت پر دباؤ ڈالا ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ماسکو کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی حقیقی خواہش دکھائی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی شراکت دار روس سے سنجیدہ اور طویل مدتی آمادگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یوکرین بھی کشیدگی کم کرنے کے اپنے اقدامات کرے گا۔
توانائی تنصیبات پر حملے روس-یوکرین جنگ میں ایک اہم محاذ بن چکے ہیں۔ دونوں ممالک نے وقتاً فوقتاً بجلی گھروں، ایندھن ذخیرہ گاہوں، ریفائنریوں اور دیگر توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس سے شہری زندگی، صنعت اور عالمی ایندھن منڈی پر اثرات پڑے ہیں۔ اس لیے اہم انفراسٹرکچر پر باہمی حملے روکنے کی تجویز مکمل جنگ بندی نہیں، لیکن اسے محدود اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس مرحلے پر روس کی جانب سے یوکرینی صدر کے تازہ مشروط مؤقف کے جواب میں کسی نئے جامع معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ زیلنسکی نے بھی اپنے بیان کو حتمی جنگ بندی قرار نہیں دیا بلکہ اسے روس کے مساوی اقدام سے مشروط کشیدگی میں کمی کی پیشکش کے طور پر پیش کیا ہے۔

